ہرنائی میں حفاظتی بند میں شگاف، گیس کی بندش، غذائی اجناس کے بحران کا خدشہ
ہرنائی (انتخاب نیوز) ہرنائی شہر اور مختلف دیہات کو سیلاب سے محفوظ بنانے کیلئے بنائے گئے حفاظتی بند میں بڑے شگاف، عوام میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہرنائی سٹی اور مختلف دیہات سیلاب کی زد میں اعلیٰ حکام ہنگامی بنیادوں پر سروتی حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے اقدامات کرے مذکورہ حفاظتی بند کے ٹوٹنے سے پہلے بھی ہرنائی سٹی اور مختلف دیہات سیلاب ریلے آنے کے باعث صفحہ ہستی میٹ چکے ہے خصوصاََ مارچ2020ء میں سروتی حفاظتی بند کے ٹوٹنے سے ہرنائی سٹی مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی چار سو سے زائد دکانیں اور ایک ہزار سے زائد گھر سیلاب کے باعث ملبے کا ڈھیر بن گئے حکومت نے ایمرجنسی بنیادوں پر ہرنائی سروتی حفاظتی بند کو تعمیر کیا گیا لیکن مسلسل تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں سے سروتی حفاظتی بند جوکہ حال ہی میں تعمیر ہوا تھا حفاظتی بند میں بڑے بڑے شگاف پڑ گئے محلہ اخترآباد، محلہ میانی آباد، بازار اور کلی زرمانہ کے لئے ڈراؤنا خواب بننے والے سروتی حفاظتی بند کا نچلا سرا سیلابی پانی سے ٹوٹ گیا کروڑوں روپے کی ایمرجنسی فنڈ سے بننے والے سروتی حفاظتی بند کے نچلے سرے میں سیلابی پانی سے دراڑیں پڑگئی ہیں، بند پر خرچ ہونے والے دس کروڑ روپے کرپشن کی نذر ہوگئے۔ محلہ اخترآباد، محلہ میانی آباد، بازار، کلی زرمانہ کو شدید خطرات لاحق ہوگئے۔ بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو ایک ہی سیلاب سے پورے محلہ اخترآباد سمیت ہرنائی بازار صفہ ہستی سے ملیا میٹ ہوسکتا ہے۔ پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، حکام بالا نوٹس لیں۔ دریں اثناء ضلع ہرنائی میں گیس ناپید، غذائی اجناس کا بحران پیدا ہونیکا خدشہ۔ شدید طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے ضلع بھر میں تباہی مچادی۔ ضلع کی دو اہم شاہراہوں کی بندش سے ضلعی ہیڈ کوارٹر سمیت دونوں تحصیلوں دیہات اور کلیوں میں گیس ناپید ہوگئی، گیس بحران کے باعث ہوٹلوں اور گھریلو مکینوں کو سخت مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بارشوں اور سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تنگی ور پانچ میل ندی آٹھ میل ندی، شپولہ گٹہ، رازئی کازوہ، پیرو کچھی ندی میں سیلابی ریلوں اور بائیس میل کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے ہرنائی پنجاب شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور پر بند ہے جبکہ ہرنائی کوئٹہ مین شاہراہ پر لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ مکمل طور پر بند ہونے ہے۔ علاقے میں گیس نہ ہونے کے باعث مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹریفک کی جلد بحالی اور دونوں شاہراہوں پر امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی گئیں تو ضلع بھر میں آٹے اور اشیائے خوروش کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔


