گورنمنٹ ٹیچرز کی تادم مرگ بھوک ہڑتال 24 ویں روز بھی جاری رہی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (آئینی)بلوچستان کے زیر اہتمام اساتذہ مطالبات پر عملدرآمد کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتالی 24ویں روز بھی جاری رہا ہڑتالی اساتذہ کی حالت بدستور تشویشناک عنایت اللہ کاکڑ اور منظور راہی بلوچ سول ہسپتال میں گزشتہ چار روز سے زیر علاج داخل ہونے کے باوجود بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں حکومتی بے حسی اور ہٹ دھرمی روایتی طور پر برقرار ،شدید بارشوں کے باوجود اساتذہ اپنے جائز اورتسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کیلئے وزیراعلیٰ ہاوس سے چند قدموں کے فاصلے پر کوئٹہ پریس کلب کے باہر خیمہ زن ہیں صوبائی حکومت کے ہٹ دھرمی سے اساتذہ وعوامی حلقوں میں سخت تشویش اور اشتعال پایا جارہاہے اساتذہ کے جائز اور تسلیم شدہ مطالبات جن کے باقاعدہ سرکاری سطح پر منٹس بھی جاری ہوچکے ہیں ملک کے تمام صوبوں بشمول وفاق اور آزاد کشمیر کے اساتذہ پہلے ہی اپ گریڈ کئے جاچکے ہیں واحد پسماندہ اور لاوارث صوبے کے اساتذہ کو محروم رکھنا نہ صرف اساتذہ وتعلیم دشمنی بلکہ بد ترین ناانصافی ہے صوبائی حکومت چند اساتذہ وتعلیم دشمن بیورکریٹس کے ایما پر اپنی بے اختیاری اور بے بسی کا رونا روہی ہے اساتذہ کے جائز مطالبات کی تمام سیاسی پارٹیوں ،آل ملازمین تنظیموں ،تاجر برادری، وکلاءوتمام سٹیک ہولڈرز کی حمایت حاصل ہے قادر رئیسانی، کلیم اللہ ریکی نے صوبہ بھر کے اساتذہ کو 29اگست کے احتجاجی جلوس ودھرنے کیلئے تیاریاں تیز کرنے کی تاکید کی ہے دریں اثناءشیڈول کے مطابق کوئٹہ پریس کلب کے باہر اساتذہ مطالبات کے حق میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مقررین نے کہا کہ حکومت اساتذہ کے جائز اور تسلیم شدہ مطالبات منظور کرکے فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کئے جائیں بصورت دیگر کسی بھی ناخوشگوار حالات اور سانحہ رونما ہونے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی ۔


