پنجگور اور پسنی اسٹینڈ بائے پاور ہاﺅسز کی بندش، نیلامی کا فیصلہ
مکران (نمائندہ خصوصی) پنجگور اور پسنی اسٹینڈ بائے پاور ہاﺅسز بند کرنے کا فیصلہ، پہلے مرحلے میں پنجگور پاور ہاو¿س کی نیلامی ہوگی، ملازمین کو جی ایس او گرڈز میں تعینات کیا جائے گا۔ انتہائی مصدقہ ذرائع کے مطابق آج سے 22 سال قبل مکران کو ابتدائی مرحلے میں 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کیلئے 1992ءکو پسنی پاور ہاﺅس کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کا افتتاح ا±س وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے کیا، ابتدائی مرحلے میں پسنی پاور ہاو¿س سے پسنی اور تربت شہر کو باقاعدہ 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی شروع کی گئی، جبکہ بعد ازاں مند سمیت ضلع کیچ کے دوسرے علاقوں کو بھی پسنی پاور ہاو¿س سے منسلک کیا گیا، جسکی پیداواری صلاحیت 17 میگاواٹ تھی جہنیں مذید بڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اس دوران پسنی پاور ہاو¿س جہاں چار ہائی پاور کے جرنیٹر نصب تھے بروقت اوور ہالنگ نہ ہونے اور ایرانی تیل استعمال کرنے کے مبینہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پاور ہاو¿س اہمیت کھوتا رہا اور ساتھ ساتھ مکران میں بجلی کی ضروریات بڑھنے اور پیداوار کم ہونے کی وجہ سے مکران میں بجلی بحران سراٹھانے لگا، طویل دورانیہ کے لوڈشیڈنگ اور بجلی بحران کے پیش نظر پنجگور میں ٹربائن پاور ہاو¿س کا قیام عمل میں لایا گیا اور یہ تجربہ ناکامی سے دوچار رہا کیونکہ کیونکہ ا±س وقت یہ بتایا گیا کہ پنجگور پاور ہاو¿س کا یومیہ تیل اخراجات لاکھوں روپے میں تھا، اور یہ منصوبہ بھی زوال کی جانب چلا گیا، بجلی بحران کیوجہ سے2003ءپرویز مشرف دور حکومت میں ایران سے ایک معاہدے کے تحت 35 میگاواٹ بجلی کی فراہمی ،،جیکی گور،، ایران گرڈ اسٹیشن سے شروع کی گئی، رفتہ رفتہ گوادر اور مکران کے دوسرے علاقوں کو بجلی کی فراہمی کے بعد مکران میں بجلی کے طلب بڑھ گئی۔ بعد ازاں معاہدے پر نظرثانی کرکے ایران سے 70 میگاواٹ بجلی کی گئی، اس دوران پسنی اور پنجگور پاور ہاو¿سز کو ،، اسٹینڈ بائے،، کے طور پر رجھا گیا جو براہ نام تھا، کیونکہ بحران کے دوران مکران کے لوگ ان اسٹینڈ بائے پاور ہاو¿سز سے مستفید نہ ہوسکے، بلوچستان بھر میں بیشتر سمال پاور ہاو¿سز بند ہونے کے بعد اب باخبر ذرائع کے مطابق پسنی اور پنجگور پاور ہاو¿سز کو باقاعدہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں پنجگور پاور ہاو¿س کو نیلام کیا جائیگا، جبکہ بہت جلد پسنی پاور ہاو¿س بھی بند کی جائیگی، ذرائع کے مطابق پسنی پاور ہاو¿س کے ملازمین کو جی ایس او میں تعینات کیا جائے گا۔


