سیلاب کے باعث بلوچستان میں ٹرین سروس معطل، ملک بھر میں ریلوے آپریشن بند
کوئٹہ (انتخاب نیوز) حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بلوچستان کا زمینی راستہ ملک بھر سے تاحال بند، ریلوے پل گرنے کی وجہ سے ٹرین سروس بھی معطل ہے۔ کوئٹہ تفتان شاہراہ جدید آباد کے مقام پر دوبارہ پل پانی میں بہہ جانے کے بعد دوبارہ بند ہوگیا ہے راستے بند ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے بلوچستان آنے والے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ چمن میں بھی بارشوں نے تباہی مچادی ہے باب دوستی کے ساتھ ساتھ کسٹم ،ایف آئی اے کے دفاتر اور گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے ملک بھر سے زمینی راستے بند ہونے کی وجہ سے بلوچستان سے سیب اور دیگر پھلوںاور سبزیوں کو ملک کے دیگر حصوں میں لے جانے کے دوران راستے بند ہونے کی وجہ سے خراب ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں راستے بند ہونے کی وجہ سے اشیاءخودنوش کی قلت کا بھی سامنا ہے جعفرآباد ،نصیرآباد اور صحبت پور میں مزید بارشوں کے بعد نئے سیلابی ریلے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا سی طرح سنجاوی میں بھی نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں کے بعد صوبے بھر میں خیمے، خوراک اور دوائیں نایاب ہو گئی ہیں۔ علاوہ ازیں بارش اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے باعث ملک بھر میں ٹرین آپریشن پانچ روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق کراچی سے لاہور پشاور آنے اور جانے والی تمام ریل گاڑیوں کی آمد رفت بند کر دی گئی، نواب شاہ کے قریب اپ اور ڈان ٹریک مکمل ڈوب گیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ مسافروں کی زندگی کے تحفظ کے لیے آپریشن بند کیا گیا، آج سے 30 ستمبر تک کے لیے ریلوے آپریشن بند کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں سکھر اور حیدر آباد میں شدید بارشوں کے باعث ریلوے ٹریک زیرِ آب آگئے جس کے باعث محکمہ ریلوے نے ٹرین آپریشن بند کر دیا ہے۔30اگست تک لاہور سے کراچی اور کوئٹہ ٹرین آپریشن بند کر دیا گیا ہے، پانی آنے کی وجہ سے اور مسافروں کی حفاظت کے پیشِ نظر آپریشن معطل کیا جا رہا ہے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ مسافر قریبی ریزرویشن آفس اور آن لائن ایپ سے ریفنڈ لے سکتے ہیں۔


