سیلاب سے ملکی معیشت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان، بلوچستان کے 27گرڈ اسٹیشنوں کی بجلی معطل

کوئٹہ، اسلام آباد (انتخاب نیوز) حالیہ مون سون بارشوں اورسیلاب سے اب تک اعداد وشمار کے مطابق ایک ہزارسے زائد ہلاکتیں، معیشت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان پہنچاہے، بلوچستان میں تاحال بجلی،گیس اور راستے بندہیں،عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے،بلوچستان سے آنے والے سیلابی پانی کا دبا بڑھنے کے بعد سندھ کو پھر سیلاب کا سامنا ہے، نصیر آباد میں دریائے ناڑی سے آنے والا سیلاب منجھو شوری میں داخل ہوگیا جس سے 350 سے زائد دیہات ڈوب گئے،رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جہاں بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ادھر ضلع دادو کی تحصیل میہڑ کی آخری ڈیفنس لائن سپریو بند میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا، ریلے میہڑ کی طرف بڑھنے لگے جس سے 100 سے زائد دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پانی کا دبا کم کرنے کے لیے حکومت سندھ نے جوہی کنال میں شگاف ڈال دیا، سیلاب جوہی شہر سمیت 60 دیہات کو متاثر کرے گا۔کنڈیارو کے قریب دریائے سندھ میں طغیانی سے زمیندارہ بند ٹوٹ گیاجس سے پانی بکھری میں داخل ہوگیا، سانگھڑ کے قریب سیم نالے کا شگاف پر نہ کیا جاسکا جس سے پانی سانگھڑ شہر کی جانب بڑھنے لگا اور کئی دیہات زیر آب آ گئے، علاقے میں نیوی کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔میرپورخاص میں جھڈو کے قریب روشن آباد پران ندی میں شگاف پڑگیا جس سے سیلابی ر یلے بدین کی جانب بڑھنے لگے۔دوسری جانب اور ہزاروں خاندان پانی میں پھنس گئے۔3 فٹ پانی بھرنے سے ڈیرہ مراد جمالی جیل کے 180قیدی سبی منتقل کردیے گئے اور ڈیرہ اللہ یار جیل ناقابل استعمال قرار دی گئی ہے جب کہ سینٹرل جیل مچھ کی گیس، پانی اور بجلی منقطع ہے۔کراچی، کوئٹہ، بولان اور جیکب آباد شاہراہ بند ہے جب کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کا رابطہ بھی بحال نہیں کیا جاسکا ہے، کوئٹہ تفتان ایران شاہراہ تین روز بعد بحال کی گئی ہے۔بجلی کے ٹاورزگرنے سے بلوچستان کے 27گرڈ اسٹیشنوں کوبجلی کی فراہمی معطل ہے جہاں خضدار، قلات، سوراب، مستونگ، نوشکی، چاغی اورخاران کے اضلاع کوبجلی کی فراہمی معطل ہے جب کہ لورالائی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین اور چمن میں بھی بجلی کی فراہمی کے مسائل ہیں۔کوئٹہ میں شدید لوڈشیڈنگ، بجلی، گیس اور موبائل فون سروس کی معطلی سے شہری پریشان ہیں۔خیبر پختونخوا کے شہروں سوات،ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، نوشہرہ اور چارسدہ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جہاں چارسدہ میں دریا کنارے واقع آبادیاں ڈوب گئیں، ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے، متاثرین کی بڑی تعداد پشاور موٹر وے پر پناہ لیے ہوئے ہے۔کوہستان میں سیلابی ریلا گزر گیا لیکن تباہی کی داستانیں چھوڑ گیا، ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی پانی ہی پانی ہے، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی آنے لگی۔سیلابی ریلے پنجاب میں داخل ہونے سے میانوالی میں جناح اور چشمہ بیراج کیمقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔انتظامیہ کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے جہاں 36 گھنٹوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق ندی نالوں کے سیلاب سے 7 لاکھ ایکڑ رقبہ شدید متاثر ہوا ہے، سیلاب سے 3 لاکھ 50 ہزار ایکڑ زرعی رقبے کو نقصان پہنچا۔فلڈ کنٹرول روم کا بتانا ہے کہ سیلاب سے 2 لاکھ 15 ہزار افراد شدید متاثر ہوئے ہیں، سیلاب سے26 ہزار گھروں کو نقصان ہوا ہے، سیلاب سے فاضل پور اور تحصیل روجھان کو شدیدنقصان پہنچا، انڈس ہائی وے روڈ اوردیگر سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں، راجن پور، سندھ اور پنجاب انڈس ہائی وے 11 روز بھی بند ہے۔پاکستانی حکام نے ابتدائی طور پر اندازہ لگایا ہے کہ شدید سیلاب نے ملک کی جدوجہد کرتی معیشت کو کم از کم 10 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کو کم از کم 10ارب ڈالر کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے، یہ ابتدائی جائزے ہیں جو قدری حالات میں سروے کرنے کے بعد مزید بڑھ سکتے ہیں۔جب اتوار کی رات ان سے رابطہ کرکے حالیہ سیلاب کے نتیجے میں ملک کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ معیشت کے مختلف شعبوں کو کم از کم 10ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس وقت معیشت کے ہر شعبے کو درپیش نقصانات کی تفصیلات نہیں ہیں۔ایک اور سوال پر کہ آیا ملک نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ابتدائی تخمینہ پر ڈونرز کو اعتماد میں لیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک ڈونرز کو اعتماد میں نہیں لیا۔اب اعلی سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد عالمی برادری سے مالی امداد کی درخواست کرے گا، پھر حکومت اور عطیہ دہندگان الگ الگ یا مشترکہ طور پر نقصانات کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور پھر درست تشخیص کے اعداد و شمار پر مفاہمت کی جائے گی۔لیکن سب سے پہلے حکومت سیلاب کی حالیہ تباہی میں بے گھر ہونے والے لوگوں کو بچانے کے لیے تمام تر امدادی سرگرمیوں پر توجہ دے گی۔ پھر انسانی جانوں مرنے اور زخمی ہونے والے دونوں افراد کے نقصانات، بنیادی ڈھانچے کے نقصانات، مویشیوں کے نقصانات، زراعت کے شعبے، کاروباری نقصانات اور مکانات کو نقصانات اور دکانوں کے نقصانات وغیرہ کا پتہ لگانے کیلئے نقصان کا صحیح اندازہ لگایا جائے گا۔این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 24 گھنٹوں میں مزید28 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد1061 ہوگئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ اموات 16 ہوئیں جو کہ کے پی میں رپورٹ ہوئیں۔24 گھنٹوں میں سندھ میں اور گلگت بلتستان میں 2 ، 2اور بلوچستان اور آزاد کشمیرمیں 4 افراد جاں بحق ہوئے۔جاں بحق افراد م میں 359 بچے،470 مرد اور 210 خواتین شامل ہیں، بارشوں اورسیلاب سے اب تک سب سے زیادہ اموات سندھ میں 349 ہوئی ہیں۔زشتہ24 گھنٹوں کے دوران سیلاب اوربارشوں سے48 افراد زخمی ہوئے ہیں، سیلاب اور بارشوں سے اب تک مجموعی طور پر 1575 افراد زخمی ہوچکے ہیں جب کہ 43 ہزار13 گھروں کو نقصان پہنچا۔این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں اب تک9 لاکھ92 ہزار871 گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ سیلاب سے اب تک 7 لاکھ 27 ہزار 144 مویشی مرچکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 8 پلوں کو بھی نقصان ہوا،بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 157 پلوں کو نقصان پہنچا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں