توبہ کاکڑی میں تین ڈیمز ٹوٹنے سے 90 فیصد باغات تباہ، سینکڑوں مکانات منہدم
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ضلع پشین توبہ کاکڑی کے سیا سی وقبائلی رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں سے پشین کا انفرا سٹرکچر تباہ ہو گیا ہے ، توبہ کاکڑی میں تین ڈیمز کے ٹوٹنے سے علا قے کے 90فیصد باغات مکمل تباہ ،سینکڑوں گھر اور متعدد سڑکیں سیلابی ریلے میںبہہ گئی ہیں لیکن تاحال کسی سر کا ری اور غیر سرکا ری نمائندوں نے علاقے کا دور تک نہیں کیا ، وزیر اعظم ، آرمی چیف ، وزیر اعلیٰ بلو چستان، کمانڈر12کور بلو چستان سے اپیل ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ضلع پشین کا دورہ کر کے متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جائے ۔ یہ بات ضلع پشین توبہ کاکڑی کے سیا سی وقبائلی رہنماءہا شم کاکڑ، شمس اللہ کاکڑ، حاجی خان کاکڑ، بشیر خان کاکڑ سمیت دیگر نے منگل کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے پشین میں موجود شادکہ ڈیم قلعہ حاجی خان اور تنگئی ڈیم ساگی ٹوٹنے کا خد شہ ہے جوکہ مستقبل میں کسی بڑے نقصان بن سکتے ہیں لہٰذان ڈیمز کو محفوظ بنا نے کے لئے بروقت اقدمات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اپنے دفاتر میں بیٹھ کر سیا سی بنیادوں پر کام کر رہی ہے لیکن انہوں نے ہما رے علا قے کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے جس کی وجہ سے علا قے کے عوام میں ما یو سی پائی جا تی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علا قے سے نو منتخب نمائند ے بھی موجود صوتحال میں بے بس نظر آرہے ہیں ہم وزیر اعظم ، آرمی چیف ، وزیر اعلیٰ بلو چستان، کمانڈر12کور بلو چستان سے اپیل کر تے ہےں کہ سیلاب سے متاثرہ ضلع پشین کا دورہ کر کے متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جائے اور علا قے کے انفرا اسٹرکچر کی بحالی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ جن علا قوں کے زمینی راستے بند ہیں وہاںہیلی کاپٹر کے ذریعے خوراک فراہم کی جائے ۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ جو تین ڈیمز ٹوٹے ہیں اسکا نوٹس لیکرجو ڈیشل انکوائری کروائی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہما رے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو علا قے کے لوگ سخت سے سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔


