سیلاب نے 3 سو ارب کا نقصان پہنچایا، زرعی قرضے معاف کیے جائیں، زمیندار

کوئٹہ (انتخاب نیوز) زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان نے زراعت کے شعبے کی بحالی کیلئے خصوصی پیکج ،بجلی کے بلوں میں ایک سال تک معافی ،زرعی ٹیوب ویلز پر ایک ہزار بلڈوزر کے گھنٹے اور زمینداروں پر واجب الادا قرض کی معافی کامطالبہ کرتے ہوئے ہوئے کہاہے کہ حالیہ بارشوں نے زمینداروں کو300ارب روپے کانقصان پہنچایاہے،صوبے کے انگور اور سیب کے مجموعی پیدوار کی 40فیصد تباہ جبکہ پیاز اور ٹماٹر کے فصلات مکمل تباہ ہوئے ہیں ،5ہزار ٹیوب ویلز اور شمسی توانائیاں متاثر ہوئی ہیں ،ہزاروں ٹن پھل اور سبزی جات قومی شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں جس کانقصان بھی زمینداروں کو پہنچاہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں زراعت کے شعبے کی بحالی اورزمینداروں کودوبارہ اپنے پاﺅں کھڑے ہونے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں ۔ان خیالات کااظہار زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی ملک نصیراحمدشاہوانی ،جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی ،کاظم خان اچکزئی ،حاجی ولی محمدرئیسانی ،حاجی نوراحمدبلوچ،حاجی شیر علی مشوانی،سیدعبدالقہارآغا،عبدالجبار کاکڑ،باچاخان ،عبداللہ جان میرزئی ،حاجی ملک رمضان مہترزئی ،حاجی عزیز سرپراہ ،ڈاکٹر مبارک علی بادینی ،حاجی عبیداللہ پانیزئی ،ملک منظور ،صدیق اللہ آغا، حاجی سلطان محمد بدوزئی ،حاجی محمدافضل بنگلزئی ،ماشا اللہ اکا لورالائی ،انجینئر محب اللہ موسی خیل،محمد حیات ،صادق کاکڑ،عزیز مغل ،سفر خان کردودیگر نے اپنے مشترکہ بیان مین کیا۔ انہوں نے کہاکہ مون سون کے حالیہ بارشوں سے بلوچستان کے زمینداروں کے فصلات کو 300ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچاہے 6لاکھ ٹن انگور کا فصل تباہ ہوگیاہے ،بلوچستان میں سیب کی پیداوار 16لاکھ ٹن ہے جس میں 40فیصد درخت سیلاب میں بہہ گئی پیاز اور ٹماٹر کی فصلات مکمل تباہ ہوگئے ہیں جبکہ زمینداروں کے سیلابہ بندات مکمل واش آﺅٹ ہوئے ہیں صوبے بھر میں5ہزار ٹیوب ویلز اور شمسی توانائیوں کو سیلابی پانی اور بارشوں سے نقصان پہنچا ہے اور مذکورہ ٹیوب ویلز پر آباد زمیندار کے مکانات منہدم ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت زمینداروں کے نقصانات کاازالہ کرے ،صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ فورا سے بیشترزمینداروں کو تمام زرعی ٹیوب ویلز پر زمینداروں ایک ،ایک ہزار بلڈوزر کے گھنٹے فراہم کی جائیں اس کے علاوہ پنجاب کے بالائی علاقوں میں جہاں سیلاب سے نقصان نہ ہوا ہوں وہاں سے بلڈوزرز کو ترسیل کرکے بلوچستان کے زمینداروں کی فعالیت کیلئے کردار ادا کرے ،انہوں نے کہاکہ زمینداروں کی مشکلات کومدنظررکھتے ہوئے فوری طورپر زمینداروں کے ایک سال کے بل معاف ،1997 سے زمینداروں پر جوقرضے واجب الادا آرہے ہیں انہیں بھی معاف کئے جائیں ،نومبر میں گندم کی کاشتکاری کیلئے معیاری بیج فراہم کی جائیں اور سبسڈی ریٹ پر یوریا کھاد ،نائٹروپاس ،ڈئی ایمونیم پاسپیٹ (ڈی اے پی )کی فراہمی یقینی بنائی جائیں ،انہوں نے کہاکہ زرعی ٹیوب ویلز کو پلاسٹک پائپ (وی سی پائپ) کی فراہمی گرین ٹنل شیڈ اور جدید طرز آبپاشی کی فراہمی کی جائیں ،ہر یونین کونسل میں چیک ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ اگر چہ بلوچستان میں جون 2022سے 28اگست 2022تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہا اس میںایک طرف زمینداروں کو نقصان پہنچاہے دوسری طرف ڈیمز میں پانی بھی ذخیرہ ہوئے ہیں بارشوں کے 20لاکھ کیوسک پانی ضائع ہوئے ہیں لیکن جن اضلاع میں ڈیمز کی تعمیر ہوئی ہے وہاں بڑی مقدار میں پانی جمع ہوئی ہیں اس کا آئندہ سیزن میںگندم کی کاشت کیلئے انتہائی فائدہ مند ہونگے اس کے علاوہ پانی کی زیر زمین سطح بھی اوپر آئی ہے ،انہوں نے وزیراعلی بلوچستان سے اپیل کی کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے بلاپیمودہ اراضیات سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل واپس لیں اور سیٹلمنٹ میں اسٹام والے افراد کی بجائے حقیقی افراد 1945 مثل ملکیت والے افراد کے نام پر انتقال کرکے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرایاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف بارشوں سے فصلات تباہ ہوئے ہیں جبکہ رہی سہی کسر قومی شاہراہوں کی بندش نے پوری کردی بلوچستان کا فورٹ منرو، دانہ سر ،بولان اور کوئٹہ کراچی شاہراہ کی بندش کی وجہ سے جو پھل اور سبزی ٹرک کے ذریعے بھیجے گئے تھے وہ راستوں کی بندش کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں جس کانقصان صرف زمیندار کو ہورہاہے ضروری ہے کہ ان زمینداروں کی مشکلات کی داد رسی کی جائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں