پاکستان چین سے سرمایہ کاری حاصل کرنے والے سرفہرست 10 ممالک میں شامل نہ ہو سکا
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان سی پیک کا میزبان ہونے کے باوجود چین سے سرمایہ کاری حاصل کرنے والے سرفہرست 10 ممالک میں شامل نہیں، چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے ساتھ وابستہ ممالک میں 139 ارب ڈالرسے زائد کی براہ راست سرمایہ کاری ،پاکستان بزنس کونسل کا چینی سرمایہ کاروں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے مشرکہ مفادات کونسل کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا مطالبہ، تمام متعلقہ محکموں میں ایک خصوصی ڈیسک قائم کرنے کی تجویز۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بزنس کونسل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو چین سے مزید براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مزید سہولیات فراہم کرے۔ پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ،سی پیک مواقع سے فائدہ اٹھانا کے عنوان سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین 2015 کے بعد سے پاکستان میںبراہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے وسیع مواقع فراہم کیے ہیںتاہم سی پیک کے پہلے مرحلے میں پاکستان کو 2015 سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے ممالک میں چین کی بیرونی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں تقریبا 5 فیصد کا نسبتا چھوٹا حصہ ملا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا سی پیک ابھی تک دوسرے مرحلے میں یا مینوفیکچرنگ سیکٹر تک نہیں پہنچا ہے۔ چین کی جانب سے کم سرمایہ کاری کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہو ئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ایف آئی ڈی کے حصول کے لیے پاکستان کا نقطہ نظر بہت عام تھا جسے جدید بنانے کی ضرورت تھی۔سی پیک نے پاکستان کو نجی سرمایہ کاری اور ایف ڈی آئی کو فروغ دینے اور اپنی معیشت کو تبدیل کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ چین 2020 میں دنیا میں بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کا نمبر ایک ذریعہ بن گیاہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے ساتھ وابستہ ممالک میں 2013 سے 2020 کے درمیان 139.85 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی۔ 2013 سے لے کر اب تک چین کا ایف ڈی آئی میں حصہ 5.1 فیصد رہا۔ پی بی سی نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو کچھ خاص خدشات تھے جن میںگردشی قرضہ ، ٹیکسوں کا متضاد سلوک، ڈی فیکٹو ایکسچینج کنٹرول، لائسنسنگ میں غیر معمولی تاخیراور منظوری، یوٹیلیٹیز کے حصول کے لیے طویل اور بوجھل طریقہ کار اور ویزا کاغیر لچکدار نظام شامل ہے۔ یہ مخصوص مسائل پاکستان میں چینی سرمایہ کاروں کوجو کہ ریاستی اور نجی دونوں طرح سے منسلک ہیں، کو سازگار اشارے نہیں دے رہے ہیں۔پاکستان بزنس کونسل نے کہا کہ اضافی کوششیں کر کے ملک میں چینی سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ پاکستان میں چین سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکے۔ پاکستان سی پیک کا میزبان ہونے کے باوجود چین سے ایف ڈی آئی حاصل کرنے والے سرفہرست 10 ممالک میں شامل نہیں ہے جو بی آر آئی میں سب سے آگے ہے۔پاکستان بزنس کونسل نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کو سی پیک میں سرمایہ کاری کو متاثر کرنے والے کوآرڈینیشن کے بہت سے مسائل کو حل کرنے کے لیے زیادہ موثرطریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور اس مسئلے پر جلد توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کی یہ تجویز ہے کہ تمام متعلقہ محکموں میں ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ چینی کارکنوں کی ویزے کی درخواستوں کو آگے بڑھایا جا سکے جس میں ورک ویزے میں توسیع بھی شامل ہے۔اس مسئلے کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے۔رپورٹ کے مطابق چینی فرموں کو درپیش ٹیکس کے مسائل کو بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مناسب طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیکس قانون کا متضاد اطلاق، ماضی اور بند لین دین کے لیے سابقہ نوٹس کا اجرا، ایک ٹیکس سال کے اندر متعدد ٹیکس آڈٹ اور ریفنڈز کی ادائیگی میں طویل تاخیر چینی فرموں کو درپیش اہم مسائل ہیں جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔


