بلوچستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں امراض کا پھیلاﺅ، متعلقہ محکمے اور وزراءمنظر سے غائب
کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان میں سیلاب سے تباہ کاریاں اور امراض کاپھیلاﺅ حکومت بلوچستان کے ذمہ دار محکموں کے وزراءمنظرعام سے غائب ہوگئے ۔بلوچستان میں ماہ جون سے شروع ہونے والے مون سون بارشیں جو اگست تک جاری رہیں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے جہاں ایک طرف تباہی مچائی انفراسٹرکچر تباہ کردیا وہی بلوچستان کے بعض ڈویژنز میں پانی کے کھڑے ہونے کی وجہ سے وبائی امراض بھی پھیل گئی ہے جس نے شدت اختیار کی ہے ملیریاودیگر امراض سے بچاﺅ کیلئے نہ تو سپرے کی گئی ہے اور نہ ہی حکومتی اقدامات سامنے آئے ہیں ،نصیرآباد ڈویژن میں سیلابی پانی کھڑاہے مگر مجال ہے کہ اس کی نکاس کیلئے صوبائی وزیر ایری گیشن کی جانب سے سندھ حکومت کے ساتھ رابطے کی کوئی خبر سامنے آئی ہوں ،اسی طرح بلوچستان کے سیلاب متاثرین وبائی امراض میں جکڑتے جا رہے ہیں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی کا بھی سامنا ہے۔بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے سیلاب متاثرین گیسٹرو اور ملیریا سمیت مختلف وبائی امراض کا شکار ہو رہے ہیں، ضلعی ہیڈکوارٹرز اسپتال میں روزانہ 2000 سے زائد مریض آرہے ہیں مگر کسی کو ڈاکٹر دستیاب نہیں تو کوئی دوائی کے لیے پریشان ہے جبکہ اسپتال میں ملیریا کی ویکسین بھی موجود نہیں ہے جبکہ محکمہ صحت کے وزیر منظرعام سے غائب ہے نہ ہی محکمے کی کوئی کارکردگی میڈیا وعوام کے سامنے رکھاگیاہے ۔جبکہ رہی سہی کسر محکمہ بلدیات کی جانب سے پوری کردی گئی ہے مختلف اضلاع میں نالیاں اور ڈرینج سسٹم تباہ جبکہ محکمہ بلدیات کے وزیر غائب ہے ۔حکومت بلوچستان کی ترجمان حالیہ سیلاب کے بعد سے صوبے سے غائب ہے میڈیا معاملات سے باخبررہنے اوردرست معلومات کیلئے محترمہ سے رابطے کرتے ہیں تو ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملتا ۔بلوچستان میں سیلاب سے اب تک 304افراد جاںبحق، 184افراد زخمی جبکہ 72ہزار مکانات کونقصان پہنچاہے اس کے علاوہ 3لاکھ 5ہزار 155مال مویشی ہلاک جبکہ 2لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوئی ہے ۔


