جیکب آباد بارش متاثرین کی درخواست پر سماعت، اسسٹنٹ کمشنر کے وارنٹ جاری
جیکب آباد (نامہ نگار) جیکب آباد کے سیشن جج کی عدالت میں بارش متاثرین کی درخواست پر کیس کی سماعت اسسٹنٹ کمشنر کے پیش نہ ہونے پر ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری،سیشن جج کامختیارکار،ڈی ایچ او اور ایس ڈی او کے رکارڈ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار سخت باز پرس، بااثر پانی کی نکاسی کرنے دیں تو یوسی ناوڑا اور شاہ پور میں ایک ہفتے میں پانی اتر جائے گا، ایس ڈی او آبپاشی کی عدالت کا آگاہی تحریری رپورٹ دی جائے جج کا حکم کیس کی سماعت 6اکتوبر تک ملتوی۔ جیکب آباد کے سیشن جج عبدالغفور کلہوڑو کی عدالت میں یوسی ناوڑا کے دیہاتی تاج محمد کی جانب سے راشن نہ ملنے اور پانی کی نکاسی نہ ہونے کی درخواست پر کیس کی سماعت ہوئی جس میں اسسٹنٹ کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا عدالت نے مختار کار غلام عباس سدہایو، ڈی ایچ او داکٹر عبدالغفار رند، ایس ڈی او آبپاشی مختار شیخ سے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سختی سے باز پرس کی۔ عدالت نے مختار کار سے استفسار کیا کہ کتنے بارش متاثرین میں راشن تقسیم کیا ہے اور خیمے دیے ہیں کتنا سامان ملا اور دیا متاثرین کے شناختی کارڈ سمیت ریکارڈ پیش کیا جائے، کیس کی سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ اس سلسلے میں رابطے پر ایڈوکیٹ عرفان علی تھیم نے بتایا کہ یوسی ناوڑا کے دیہاتی کی درخواست پر عدالت نے پیش نہ ہونے پر اے سی کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہیں جبکہ مختارکار، ڈی ایچ اواور آبپاشی حکام سے سختی سے باز پرس کی ہے، کیس کی سماعت کے دوران جج نے ار کار سے مخاطب ہوکر کہا کہ تم کہتے ہو کہ متاثرین کی امداد کی ہے کہاں کی ہے میں نے خود بیگاری کا دورہ کیا وہاں تو سب شکایت کررہے تھے کوئی کام نہیں کرتے صرف زبانی باتیں کرتے ہو تمارے پاس ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے اگر قرآن پاک لایا جائے اس پر ہاتھ رکھو گے، جس پر مختارکار عدالت کوکسی بھی سوال کاجواب نہیں دے سکے جبکہ محکمہ آبپاشی کے ایس ڈی او سے ہیر الدین ڈرین کے پانی کی نکاسی نہ کرنے پر عدالت نے باز پرس کی ایس ڈی او نے عدالت کو بتایا کہ بااثر شخصیات پانی کی نکاسی کرنے نہیں دے رہے اگر یہ پانی نکل گیا تو ایک ہفتے کے اندر یوسی ناوڑا اور یوسی شاہ پور سے پانی کم ہو جائے گاجس پر عدالت نے اگلی سماعت پر ایس ڈی او آبپاشی کو تحریری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔


