اپنے آپ کو مہاجر کہنے والوں نے سندھیوں اور بلوچوں کی زمینوں پر قبضے کیے اور پٹھانوں کا قتل عام کیا، نوابزادہ جمیل بگٹی

ایک گولی پر استعفے دینے کے دعویدار گولہ باری اور 66 لوگوں کی موت کے بعد بھی کابینہ سے چمٹے رہے، فاروق ستار کے بیان پر نوابزادہ جمیل بگٹی کا رد عمل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے ایم کیو ایم کے سابق رہنما فاروق ستار کے حالیہ دنوں دیے گئے انٹرویو کے جواب میں روزنامہ انتخاب سے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے تو میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں ایم کیو ایم کے حوالے سے 17 مارچ 2005 ءکو بمباری ہوئی تھی ڈیرہ بگٹی میں میرے والد کے گھر پر اس کے بعد ہم چلے گئے تھے پہاڑوں پر، میں بھی ان کے ساتھ تھا، مجھے یاد تھا کہ سیٹلائٹ فون پر میرے والد کو فون پر فون آرہے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے فون اٹھایا پھر بند کردیا، پھر فون آیا تو والد نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم والے ہیں وہ بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ ایم کیو ایم والے ہیں تم بات کرو اور ان سے پوچھو کہ کیوں فون کررہے ہیں کیا بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ ا س وقت ایم کیو ایم نے بولا تھا کہ نواب صاحب اگر ڈیرہ بگٹی میں آپ کے اوپر ایک بھی گولی چلی تو ہم کابینہ چھوڑ دیں گے اور استعفا دے دیں گے، تو والد صاحب نے کہا تھا کہ ان سے بولو پہلے کابینہ چھوڑیں، استعفا دیں پھر مجھ سے بات کریں۔ پھر نسرین جلیل کا فون آیا، پھر فاروق ستار کا فون آیا والد صاحب سے بات کرنا چاہتے تھے، میں نے کہا تھا کہ والد صاحب بات نہیں کرنا چاہتے، میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے کہا تھا کہ نواب اکبر بگٹی پر ایک بھی گولی چلی تو استعفا دیں گے کابینہ سے ادھر سے گولے چل گئے، چار گھنٹے گولہ باری کی گئی، 66 افراد جاں بحق ہوگئے آپ نے ا ستعفا نہیں دیا۔ یہ لوگ اتنے نمک حرام ہیں انہوں نے جو سندھیوں کیساتھ کیا ادھر آکر، یہ اپنے آپ کو مہاجر کہتے ہیں، مہاجر کا مطلب ہوتا ہے آپ نے واپس اپنے گھر جانا ہے، انہوں نے جانا تو ہے نہیں، یہ سندھ کی سرزمین پر بیٹھے ہیں لیکن اپنے آپ کو سندھی نہیں کہتے، سندھیوں اور بلوچوں کے شہروں پر انہوں نے قبضے کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ تو خود ضیاءالحق کی پیداوار ہیں، دیکھا جائے تو یہ لوگ خود ٹیررسٹ آرگنائزیشن ہیں، ان کا خیال ہے کہ جیسا ان کا لیڈر بھاگ گیا ہے تو باقی بلوچ بھی ایسے بھاگ جائیں گے۔ کئی رہنما ڈیرہ بگٹی آئے، والد صاحب سے ملاقات کی، میں بھی اس وقت ادھر ہی موجود تھا، انہوں نے انہیں بیرون ملک جانے کی پیشکش کی جس پر انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ کسی صورت اپنی سرزمین بلوچستان کو چھوڑ کر نہیں جاﺅں گا۔ میں نے جب والد صاحب سے کہا کہ آپ کو جانا چاہیے تھا ان کے ساتھ تو انہوں نے کہا تھا کہ ان لوگوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، یہ یہاں سے کراچی لے جا کر مجھے ان کے حوالے کردیں گے اور کہیں گے کہ نواب صاحب ہم کیا کریں یہ لوگ زورآور ہیں۔ والد صاحب نے کہا تھا کہ میں قیدی بن کر نہیں مرنا چاہتا ہوں۔ پہاڑوں پر دشمن کا مقابلہ کرکے شہید ہونا چاہتا ہوں۔ ان لوگوں کو 16 سال بعد یہ کہانی کہاں سے یاد آگئی، یہ لوگ تو اسٹیبلشمنٹ کی کھڈے لائن میں لگے ہوئے ہیں، یہ لوگ اپنے نمبر بنانے کیلئے اس قسم کی فضول بات کررہے ہیں، میں سختی سے ان کے بیان کی تردید کرتا ہوں اور ان کے جو باس ہیں آپ کے اخبار کے توسط سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے فضول بیانات دینے سے گریز کریں۔ ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں کہ جب پرویز مشرف کے دور میں 12 مئی کو انہوں نے پٹھانوں کو قتل کیا تھا کراچی میں اس وقت تو یہ لوگ دندناتے پھرتے تھے، پرویز مشرف نے ان لوگوں کو مکمل سپورٹ دی ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں