نصیرآباد میں سسرال والوں کے تشدد کا شکار بختاور کو انصاف فراہم کیا جائیگا، عظمیٰ یعقوب

نصیر آباد (انتخاب نیوز) ایف ڈی آئی پاکستان کی سربراہ عظمیٰ یعقوب نصیر آباد میں شوہر اور سسر کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونی والی بچی بختاور کے پاس پہنچ گئیں ۔ تشدد کا شکار ہونے والی بچی نے بتایا کہ اس کی شادی ایک سال قبل اس کے چچا زاد سے ہوئی تھی اور شادی کے اگلے ہی روز شوہر نے اسے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا گھریلو کام کاج کے علاو¿ہ بھیڑ بکریاں چرانا بھی اس کی ذمہ داری تھی ایک سال تک ظلم و ستم سہتی رہی اس دوران والدین کو اس ظلم و جبر سے آگاہ کیا تو میرے والدین اور بھائیوں سے ملنے پر پابندی لگا دی گئی پورے دن میں ایک روٹی دی جاتی تھی اور تشدد کے ساتھ بھوکا بھی رکھا جاتا تھا ایک دن موقع پا کر والدین کے گھر چلی آئی اور مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کردی تاہم بروقت داد رسی نہ ہوئی تو میڈیا کے ذریعے فریاد کی جس پر اعلیٰ حکام نے نوٹس لیا اور ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی متاثرہ لڑکی بختاور کے بھائی عبدالغفار دیرکھانی نے بتایا کہ ملزمان نے میری بہن کو تشدد کا نشانہ بنایا ایف آئی آر کے اندارج کے بعد بچی کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا ہے تاہم میڈیکل رپورٹ ہمیں نہیں دی گئی عبدالغفار نے بتایا کہ ایف آئی آر کے اندارج کے بعد ملزمان نے راضی نامے کا کہلوایا ہے تاہم ہم پولیس کی درست تفتیش اور عدالت سے انصاف کے طلب گار ہیں اس موقع پر فورم فار ڈیگنیٹی انیشیٹیوز پاکستان کی سربراہ عظمیٰ یعقوب نے کم سن بچی بختاور پر بہیمانہ تشدد پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ضروری ہے اس کے ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ آیا اس بچی کی عمر 18 سال بھی ہے یا اس سے بھی کم ہے بظاہر اس بچی کی عمر بارہ تیرہ سال ہی ہے میڈیکل رپورٹ میں اس بچی کی درست عمر کا تعین بھی ضروری ہے عظمیٰ یعقوب نے کہا کہ اس واقعہ کا اعلی سطح پر نوٹس لیا گیا ہے اور ڈبلیو پی سی کی چیئرپرسن ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی اور کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن بلوچستان کی چیئرپرسن فوزیہ شاہین نے بلوچستان پولیس کے حکام بالا سے رابطہ کرکے مظلوم اور متاثرہ خاندان کی داد رسی اور قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے عظمیٰ یعقوب نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کیخلاف موثر کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے، عظمیٰ یعقوب نے متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو یقین دلایا کہ تشدد کا شکار بننے والی بچی کی قانونی و اخلاقی معاونت کے لیے سول سوسائٹی کی دیگر تنظیموں سے ملکر مو¿ثر حکمت عملی تشکیل دی جائے گی اور خواتین کے خلاف اس طرح کے پرتشدد واقعات کی روک تھام کیلئے سینٹرل پولیس آفس کی مدد سے رائج الوقت قوانین پر عملدرآمد کرایا جائیگا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں