وزیر داخلہ کا دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کا اعتراف
اسلام آباد: وزیر داخلہ نے دہشتگردی کے واقعات میں مجموعی لحاظ سے اضافے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا ہے، دہشتگردی کے واقعات کی وجوہات مقامی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی ہے، دہشتگرد تنظیمیں کوشش کر رہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ علاقے ان کے قبضے میں ہوں ، دہشتگردی کی مشترکہ کارروائیوں کیلئے چھوٹی تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ ہے اور سرحد سے متصل علاقوں میں دہشگرد تنظیمیں دوبارہ منظم ہو رہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر وزارت داخلہ نے سینیٹ میں تحریری جواب جمع کرایا ہے جس میں وزیر داخلہ نے دہشتگردی کے واقعات میں مجموعی لحاظ سے اضافے کا اعتراف کیا۔ جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس وقت ملک کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا ہے، رواں برس ابتک دہشت گردی کے 514 واقعات رونما ہوچکے ہیں، جس میں سے 307 واقعات صرف خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔وزیر داخلہ کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں 189 سندھ میں 12 اسلام آباد 3 پنجاب میں دہشتگردی کے 3 واقعات ہوئے۔ وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات کی وجوہات مقامی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی ہے اور ساتھ ہی ساتھ سرحد پار دہشتگرد تنظیموں کو کارروائیوں کی آزادی حاصل ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں کوشش کر رہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ علاقے ان کے قبضے میں ہوں اور اس کوشش کو عملی جامہ پہنانے کےلیے دہشتگرد تنظیموں نے امریکی انخلا کے بعد ترک شدہ جدید ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔ انہوں نے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا کہ اس میں رات کی تاریکی میں دور تک نشانہ بنانے والے ہتھیار بھی شامل ہیں، اسی وجہ سے دہشتگردوں کو کارروائیاں بڑھانے کا موقع مل گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگردی کی مشترکہ کارروائیوں کیلئے چھوٹی تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ ہے اور سرحد سے متصل علاقوں میں دہشگرد تنظیمیں دوبارہ منظم ہو رہی ہیں۔


