بلوچستان لیبر فیڈریشن کی مہنگائی مکاﺅ تحریک، صوبے میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان لیبر فیڈریشن کی کال پر مہنگائی مکاﺅ تحریک کے حوالے سے مہنگائی بیروز گاری خوردنی اشیا ءکی قیمتوں، پیٹرول، ڈیزل، گیس، بجلی کے بلوں میں اضافے، ملازمین و مزدوروں کی اپ گریڈیشن پروموشن میں بلا جواز روڑے اٹکانے، سیلاب متاثرہ علاقوں کے ملازمین و مزدوروں کی مشکلات حل نہ ہونے کیخلاف کوئٹہ سمیت قلات، حب، خضدار، لورالائی، ہرنائی اور دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکال کر اہم شاہراہوں پر مظاہرے کیے گئے۔ اس سلسلے میں کوئٹہ میں مرکزی ریلی ریلوے اسٹیشن چوک سے نکالی گئی جس کی قیادت خان زمان قاسم، خان دین محمد محمد حسنی، مجیب اللہ غرشین، عارف بڑیچ، معروف آزاد، عابد بٹ، ارشد یوسفزئی، ملک وحید کاسی، ظفر خان رند، نورالدین بگٹی و دیگر رہنماﺅں نے کی۔ احتجاجی ریلی ریلوے اسٹیشن کوئٹہ سے نکل کر شہر کی مختلف شاہراہوں ہاکی چوک، جناح روڈ اور منان چوک سے ہوتی ہوئی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بلوچستان کے ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ مزدوروں کی اپ گریڈیشن پرموشن کے عمل کو شفاف بنانے بلوچستان کے اداروں میں تنخواہوں میں تفریق ختم کرنے کیلئے زبردست نعرے بازی کی۔ بلوچستان لیبر فیڈریشن کے قائدین و ومزدور ملازمین تنظیموں کے رہنماﺅں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول ڈیزل اور دیگر خوردنی اشیا اتنی مہنگی کردی گئی ہیں کہ غریب کی قوت خرید نے جواب دے دیا ہے، آئے روز مہنگائی سے عوام تنگ آچکے ہیں، خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، اب تو ملک میں ڈالرز کی قیمتوں میں بھی کمی ہورہی ہے لیکن اس کے باوجود مہنگائی کم نہیں ہورہی ہے، ملازمین کی تنخواہوں کو مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے، کئی محکموں میں اب بھی کنٹریکٹ ملازمین کو 15 ہزار تنخواہوں کی ادائیگی ہورہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے 25 ہزار کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی جانب سے جاری قیمتوں کے احکامات کو دکاندار ہوا میں اڑا دیتے ہیں، کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن سمیت اندرون بلوچستان میونسپل کمیٹیوں کے ملازمین کو گریجویٹی، پنشن اور ریٹائرمنٹ کے دیگر واجبات کی ادائیگی نہیں ہورہی، ملازمین سراپا احتجاج ہیں، محکمہ بی اینڈ آر و دیگر محکموں کے ملازمین کی بیس سال سے اپ گریڈیشن نہیں ہوئی، ملازم جس پوسٹ پر بھر تی ہوئے تیس سال بعد اسی سکیل وپوسٹ پر ریٹائرڈ ہورہے ہیں، حکومت اور متعلقہ انتظامیہ پورے بلوچستان میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔ حکومت بلوچستان میں مہنگائی بے روزگاری کے خاتمے اور ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے اور پیٹرول، ڈیزل، یوٹیلیٹی بلز پر بلا جواز ٹیکس ختم کیے جائیں۔ مظاہرے کے اختتام پر مہنگائی بیروزگاری کے خاتمے اور ملازمین و مزدوروں کے مسائل کے حل کیلئے 26 اکتوبر 2022 ءبروز بدھ دن گیارہ بجے ریلوے اسٹیشن کوئٹہ سے عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد ملازمین پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔


