اوپن یونیورسٹی کے آن لائن سسٹم میں خرابی، 80 فیصد طلبہ کا رزلٹ نہ آسکا
دالبندین (انتخاب نیوز) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی خزاں 2021ءکے رزلٹ اسٹوڈنٹس کے لئے درد سر بن چکا، 80 فیصد سے زائد امتحان دینے والے اسٹوڈنٹس کا رزلٹ زیرو آنا سمجھ سے بالاتر ہے، ضلع چاغی کے اسٹوڈنٹس نے دالبندین میڈیا کو بتایا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی طلبا کو سہولیات دینے کے بجائے اب پریشانی سے دوچار کردیا ہے، خزاں کا امتحان دینے والے ضلع چاغی کے تین سو سے زائد اسٹوڈنٹس کی رزلٹ سسٹم زیروشو کررہا ہے، سسٹم میں تمام پیپرز کو زیرو شو کرنا ادارے کے لیئے سوالیہ نشان ہے اس طرح کیسے ہو سکتا ہے تمام کے تمام اسٹوڈنٹس کے سب پیپرز زیرو مارکس ہوں جس کی کوئی لاجک ہی نہیں بنتی ہے اسٹوڈنٹس نے مزید بتایا دنیا آن لائن سسٹم سے استفادہ حاصل کررہا ہے مگر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا سسٹم کسی عذاب سے کم نہیں ہے انھوں نے مزید بتایا اس حوالے سے ادارہ کے آفیشلز سے رابطہ کیا گیا انکا کہنا ہے رزلٹ درست کرنے کے لیے بزریعہ درخواست آگاہ کرے طلبا کی حاضری ریکارڈ، جوابی پرچے، سریل نمبرز وغیرہ یہ تمام ریکارڈ ادارے کے پاس موجود ہیں اسٹوڈنٹس کا کہنا ہے صرف چاغی نہیں بلوچستان اور خصوصا پاکستان میں 80 فیصد طلبا کو یہ پریشانی درپیش ہیں طلبا کا کہنا تھا جب سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے اپنا نظام CMSاور LMSپر منتقل کیا ہے تب سے اسٹوڈنٹس کو شدید مسائل درپیش ہے طلبا نے میڈیا کو بتایا ہم وائس چانسلر اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے بالا حکام سے اپیل کرتے ہیں خدار اسٹوڈنٹس کو اس زہنی پریشانی سے نجات دلا کر رزلٹ کو تصحیح کرکے اس عذاب سے چھٹکارا دلائی جائے بصورت دیگر مجبورا طلبا اس تکنیکی بلنڈر اور اسکی درستگی پر اسٹوڈنٹس کو پریشان کرنے خلاف احتجاج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔


