عمران نے اداکاری میں شاہ رخ اور سلمان خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان نے اداکاری میں شاہ رخ خان اور سلمان خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، اس طرح کی ڈرامے بازیاں سمجھ نہیں آتیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہڈی کا علاج کینسرکے ہسپتال میں؟ حملے کا پرچہ وزیراعظم اوروزیرداخلہ پر؟ ایسی گفتگوکوئی عام شہری نہیں کرتا جو ملک کا سابق وزیراعظم کہہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ڈرامے بازیاں سمجھ نہیں آتیں کہ گولی ایک لگی ہے دو لگیں یا پھر چار لگیں یا ٹکڑے لگے، عمران خان نے اداکاری میں شاہ رخ خان اور سلمان خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کو مشکل کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، حادثات کا سہارا لے کرقوم کو اضطراب کا شکارکیا جارہا ہے، ایک واقعے کولے کرجھوٹ گھڑا جا رہا ہے، ہم لوگ خطے میں تمام ممالک میں معاشی طور پر پیچھے رہ گئے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اندھے لوگوں نے آنکھیں بند کرکے عمران خان کے جھوٹ کو قبول کیا، آج اس نے ایک نیا ڈرامہ رچایا ہے، عمران خان کو گولی لگنے کی پہلی خبر آئی تو ہم نے بھی مذمت کی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں سامنے آتی گئیں، گولی ایک لگی ہے دو لگی چار لگی یا ٹکڑے لگے، ہم نے بم کے ٹکڑے سنے گولی کے ٹکڑے پہلی بار سنے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان ساری دنیا کو چور چور کہتا رہا بعد میں خود چورنکلا، پہلے ان کے جھوٹ اور آفیشل ڈاکومنٹس پرجے آئی ٹی بننی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ ناکام ہوگیا، حکیم رانا ثنا اللہ پوری تیاری میں بیٹھا ہے، یہ لوگ کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہوسکتے، حکومت ڈٹ جائے اورکوئی نرمی نہ برتی جائے، یہاں زمین بہت گرم ہے تمہارے تلوے اس گرمی کو برداشت نہیں کرسکیں گے، حکومت سے گزارش کرتا ہوں ان سے بھرپور تیاری سے نمٹا جائے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم لانگ مارچ میں انتظامیہ کی دی ہوئی جگہ پر نظم و ضبط سے بیٹھے، شائستگی سے مارچ میں بیٹھے اور چلے گئے، پچھلی بار بھی تحریک انصاف کو عدالتی احکامات پر آنے کی اجازت دی گئی مگر ان لوگوں نے قانون کے احکامات کی خلاف ورزی کی، اس بار ان پر قطعاً بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس بار بھی یہ اپنی خواہش کے مطابق آرمی چیف لگانے کی کوشش میں ہے، اس طرح تو ہر جماعت کا اپنا اپنا آرمی چیف ہوگا، آرمی چیف کے تقررکا حق وزیراعظم کا ہے، اس لیے اس میں مداخلت نہیں کی جا سکتی، جب عمران خان آرمی چیف کو توسیع دیتا تھا، ہم سے پوچھ کر دیتا تھا، انہوں نے کہا کہ ماورائے قانون کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کو تباہی کی طرف اپنے ایجنڈے کے مطابق دھکیل رہا ہے، کسی بھی جنرل سے میں شکوہ کر سکتا ہوں لیکن فوجی عہدیداروں پر الزامات لگانا اور گالیاں نکالنا، یہ سب ہماری سیاست کا حصہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں