پولینڈ پر میزائل روس نے فائر نہیں کیے،جوبائیڈن

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر جوبائیڈن نے پولینڈ کی زمین پر فائر کیے جانے والے میزائل کا روس سے داغے جانے کا امکان رد کر دیا۔انڈونیشیا میں جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس کے لیے موجود امریکی صدر جوبائیڈن نے پولینڈ پر میزائل حملے کے بعد اتحادی ممالک کے رہنماوں سے فوری بند کمرہ ملاقات کی۔ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید میزائل روس کی طرف سے فائر نہیں کیا گیا۔امریکا کے صدر جو بائیڈن نے کہا کہ پولینڈ پر ہوئے میزائل حملے کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات میں اس کے ساتھ تعاون کریں گے۔امریکی صدر نے میزائل کی رفتار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید میزائل روس کی طرف سے فائر نہیں کیا گیا۔امریکی صدر نے پولینڈ کے صدر، اتحادی ملکوں اور نیٹو چیف سے معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔اس حوالے سے امریکا اور اتحادی ممالک نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگلا قدم اٹھانے سے پہلے پولینڈ پر ہوئے میزائل حملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ادھر امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پولینڈ کو نشانہ بنانے والے میزائل کا روس سے داغے جانے کا امکان رد کیے جانے کے بعد 3 امریکی عہدے داروں کا بھی اس حوالے سے بیان سامنے آیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پولینڈ کو نشانہ بنانے والا میزائل یوکرینی افواج نے فائر کیا تھا۔ان 3 امریکی عہدے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پولینڈ کو نشانہ بنانے والا میزائل یوکرینی افواج نے فائر کیا تھا۔امریکی صدر اور 3 امریکی عہدے داروں کے بیانات امریکی انٹیلی جنس اہلکار کے بیان سے متصادم ہیں۔ابتدامیں امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے کہا تھا کہ روسی میزائل پولینڈ میں داخل ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں