گوادر پورٹ سے اندرون ملک نقل و حمل پر اضافی لاگت کی وصولی صوبوں سے کی جائے گی، ای سی سی

اسلام آباد :اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے روس سے ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی۔وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق نے 30 نومبر 2022 کو کھولے گئے 7ویں بین الاقوامی گندم کے ٹینڈر 2022 کے ایوارڈ پر ایک سمری پیش کی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 7ویں بین الاقوامی ٹینڈر اور جی ٹو جی پیش کش کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے میسرز سیریل کراپ ٹریڈنگ کی سب سے کم بولی کی منظوری دی۔اجلاس میں 16 دسمبر 2022 اور 8 فروری 2023 سے کھیپ کی مدت کے لیے کراچی کی بندرگاہوں پر ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن کی گندم کی فراہمی کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جی ٹو جی کی بنیاد پر روس کی پیش کش کی منظوری بھی دی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 37 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے یکم فروری 2023 سے 31 مارچ 2023 تک کھیپ کی مدت کے لیے گوادر پورٹ پر 4 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔وزیرخزانہ کی زیرصدارت فیصلہ کیا گیا کہ گوادر پورٹ سے اندرون ملک نقل و حمل پر کوئی بھی اضافی لاگت پاسکو برداشت کرے گا جس کی وصولی اس وقت صوبوں سے کی جائے گی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت خزانہ کی پاک-چین اقتصادی راہدری (سی پیک) انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے لیے ریوالونگ فنڈ اکانٹ کو پاکستان انرجی ریوالونگ فنڈ سے پاکستان انرجی ریوالونگ اکانٹ میں تبدیل کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔خیال رہے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یکم نومبر کو روس سے 372 ڈالر فی ٹن کی قیمت پر 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں