باجوہ نے چوروں کو ملک پر مسلط کردیا، پنجاب اسمبلی توڑنے کا مشورہ پرویزالٰہی نے خود دیا تھا، عمران خان

لاہور (انتخاب نیوز) چیئرمین تحریک انصاف و سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی و معاشی بحرانوں سمیت میری حکومت گرانے کا واحد ذمہ دار جنرل(ر) باجوہ ہے جس نے چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا، میں برملا کہوں گا کہ جنرل (ر) باجوہ ہمیں مسلسل دھوکہ دیتے رہے، چودھری پرویز الہی نے اپنی سیاست بچانی ہے تو ہمارے ساتھ رہنا ہوگا، ہمارا پرویز الہی کے ساتھ سابق آرمی چیف کے متعلق بات کرنے پر کچھ طے نہیں ہوا تھا، میرے خطاب کے بعد ایک گھنٹہ تک چودھری پرویز الہی میرے ساتھ جہاں ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے، اس وقت تو نہیں کہا باجوہ کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے تھی،چودھری پرویز الہی نے لکھ کر مجھے اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے دی ہے، جمعے کو یہ ایڈوائس گورنر کو بھیج دوں گا، ایک ہفتے کا وقت اس لیے دیا شاید انہیں عقل آجائے، امپورٹڈ حکومت معیشت کے چیلنجز اور تخریب کاری سے نمٹنے میں ناکام رہی، انتخابات سیاسی استحکام کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سینئر صحافیوں سے ملاقات،غیر ملکی میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کیا۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ ق لیگ اور پی ٹی آئی دو آزاد سیاسی جماعتیں ہیں، ق لیگ کی جنرل باجوہ کے حوالے سے اپنی پالیسی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار جنرل باجوہ ہیں، امریکہ میری حکومت گرانے میں کتنا ذمہ دار ہے کچھ نہیں کہہ سکتا، اسی لئے سائیفر کی انکوائری چاہتا تھا۔سربراہ پاکستان تحریک انصاف نے مزید کہا کہ نیب جنرل (ر) باجوہ کے کنٹرول میں تھا، جنرل (ر) باجوہ نے میری مخالفت کے باوجود سب کو این آر او دیا، چودھری پرویز الہی نے لکھ کر مجھے اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے دی ہے، جمعے کو یہ ایڈوائس گورنر کو بھیج دوں گا۔عمران خان نے کہا کہ ق لیگ ایک آزاد سیاسی جماعت ہے، مسلم لیگ ن سے مذاکرات کر سکتی ہے۔دریں اثنا چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے سینئر صحافیوں نے ملاقات کی جس میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمارا پرویز الہی کے ساتھ سابق آرمی چیف کے متعلق بات کرنے پر کچھ طے نہیں ہوا تھا، میرے خطاب کے بعد ایک گھنٹہ تک چودھری پرویز الہی میرے ساتھ جہاں ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے، اس وقت تو نہیں کہا باجوہ کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔عمران خان نے مزید کہا کہ چودھری پرویز الہی نے اپنی سیاست بچانی ہے تو ہمارے ساتھ رہنا ہوگا، جنرل(ر) باجوہ نے چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا، میں برملا کہوں گا کہ جنرل (ر) باجوہ ہمیں مسلسل دھوکہ دیتے رہے۔عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات میں کہا کہ ایک ہفتے کا وقت اس لیے دیا شاید انہیں عقل آجائے، جنرل (ر)باجوہ کے بارے میں پرویز الہی کا اپنا تجربہ ہے اور میرا اپنا، جنرل باجوہ کے بارے میں میرے اور پرویز الہی کے پوائنٹ آف ویو میں فرق ہے۔اسحاق ڈار اور صدر کی ملاقاتوں پر سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہو سکتا ہے ان مذاکرات سے یہ کوئی انتخاب کی تاریخ دے دیں، ویسے ان سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ یہ انتخاب نہیں چاہتے۔قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ امپورٹڈ حکومت معیشت کے چیلنجز اور تخریب کاری سے نمٹنے میں ناکام رہی، انتخابات سیاسی استحکام کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں