جنگ عظیم دوئم میں 11 ہزار جنگی قیدیوں کے قتل میں معاونت کرنیوالی 97 سالہ خاتون کو دو سال قید

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی کی مقامی عدالت نے جنگ عظیم دوم کے دوران حراستی کیمپ میں 11 ہزار جنگی قیدیوں کے قتل میں نازیوں کی معاونت کرنے کے جرم میں 97 سالہ خاتون کو دو سال کی سزا سنا دی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 97 سالہ خاتون ارمگارڈ فرکنر کو جنگ عظیم دوم کے دوران جنگی قیدیوں کے لیے قائم حراستی کیمپ میں ملازمت کے دوران 11 ہزار افراد کے قتل میں نازیوں کی معاونت کرنے کے جرم میں دو سال کی سزا سنائی گئی ہے، تاہم ان کا ٹرائل گزشتہ برس ہوا تھا۔خیال رہے کہ یہ قتل عام نازی جرمنی میں ہوا تھا جو کہ 1933 سے 1945 تک جرمن ریاست تھی جہاں بڑے پیمانے پر یہودیوں کی نسل کشی کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق شمالی جرمنی میں ایک مقامی عدالت نے ارمگارڈ فرکنر کو جرم ثابت ہونے پر دو سال کی سزا سنائی ہے۔رپورٹ کے مطابق ارمگارڈ فرکنر 1943 سے 1945 کے درمیان اسٹٹہوف حراستی کیمپ میں بطور ٹائسپٹ ملازمت کرتی تھیں اور اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی۔ارمگارڈ فرکنر کا ٹرائل گزشتہ برس ستمبر میں شروع ہوا تھا مگر مختصر عرصے کے لیے مقدمے سے فرار ہونے کی وجہ سے ٹرائل میں تاخیر کی گئی تھی، بعدازاں انہیں حراست میں لے کر عدالت کے سامنے لایا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں