بلوچستان میں آباد مہاجرین کو مردم شماری کے عمل سے دور رکھا جائے، بی این پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے مرکزی کابینہ اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور ضلعی کابینہ کا مشترکہ اجلاس گزشتہ روز ایم پی اے ہاسٹل کوئٹہ میں زیر صدارت پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ منعقد ہوا جس میں پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی خواتین سیکرٹری ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار،اراکین سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی و ضلعی صدر بی این پی کوئٹہ غلام نبی مری، حاجی باسط لہڑی، شمائلہ اسماعیل مینگل، پروین لانگو، ضلعی سینئر نائب صدر ملک محی الدین لہڑی، ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، سیکرٹری اطلاعات نسیم جاوید ہزارہ، خواتین سیکرٹری باجی منورہ سلطانہ، پروفیشنل سیکرٹری میر غلام مصطفی سمالانی اور انسانی حقوق کے سیکرٹری پرنس رزاق بلوچ نے شرکت کی، اجلاس میں پارٹی کے ضلعی مجموعی سیاسی صورتحال اور آنے والی مردم شماری خدشات تحتفظات اور مسائل کے حوالے سیر حاصل بحث کی گئی،اور مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی کہ وہ مردم شماری سے متعلق بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل اور پیچیدگیوں کا جائزہ لیکر ایک جامعہ پالیسی بنا کر حکمت عملی ترتیب دینگے اجلاس میں کہا گیا کہ ایسے حالات میں مردم شماری کا انعقاد کیا جا رہا ہے جب بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شدید سردی کی لہر کا دور دورہ ہے، اور مقامی لوگ اس وقت گرم علاقوں کی طرف منتقل ہو گئے ہیں، مردم شماری کسی بھی ملک کی سماجی، معاشی، معاشرتی، ترقی وخوشحالی سماج کی بہتری، فنڈز کی منصفانہ تقسیم، تعلیم و صحت، روزگار،بلدیاتی اور جنرل انتخابات، حلقہ بندیوں کے قیام آبادی اور رقبے کو یکساں بنیادی ترقی دینے کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہے، جب ایسے حالات میں لوگ اپنے علاقوں میں موجود نہیں رہینگے تو یقینا وہ ان تمام بنیادی حقوق سے محروم ہوجائینگے جس کے نتیجے میں مردم شماری کی اہمیت زائل ہو جائیگی، بلوچستان کے عوام پہلے سے ہی گوں نا گوں مسائل سے دوچار ہیں، لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی موجودگی اور بلوچ آئی ڈی پیز جو اس وقت کے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے مظالم اور آپریشن کے نتیجے میں اپنے آبائی علاقوں ہجرت کرکے ملک کے دیگر صوبوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مردم شماری سے متعلق بی این پی کا روز اول سے واضح اور اصولی موقف ہے کہ مہاجرین جہاں کہی کا یا کسی بھی ملک باشندہ ہو اُنہیں مردم شماری سے دور رکھا جائے، کیونکہ یہ اقدام ملک کے ماورائے آئین و قانون ہے، اور بلوچ آئی ڈی پیز کی دوبارہ آباد کاری اور انہیں مردم شماری میں شامل کرانا عین آئین کے مطابق ہے،یہ مردم شماری ہمارے لئے موت و زیست کا سوال ہے، تمام مشکلات کے باوجود مردم شماری کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کرنا قومی و تنظیمی فرائض پارٹی کی اولین ترجیح ہے،ان کا کہنا تھا کہ بی این پی ہر قسم کی نفرت و تعصب کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہے لیکن مردم شماری قوموں کی بقاء وجود و شناخت کیلئے ناگزیر ہے،لیکن اس کیلئے سازشیں اور منصوبوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرینگے، اور نہ ملک کے قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں، منصفانہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کے قوانین کے تحت مقامی افراد کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنا اور انہیں بنیادی ضروریات زندگی سے محروم رکھنے کی پالیسیوں سے مردم شماری کی افعادیت و اہمیت زائل ہو جاتی ہے۔اجلاس میں گزشتہ شب سریاب روڈ میں بی این پی ضلع کوئٹہ ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی کے بھانجے عبدالخالق قمبرانی کی جبری گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسے فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے، بلوچستان میں آج بھی بے گناہ لوگوں کو جبری طور پر غائب کیا جا رہا ہے جو کہ ملکی قوانین کے خلاف ہے، ایسے ماورائے آئین اقدامات کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں