بلیک واٹر کے زیراستعمال بم پروف گاڑیوں کی پاکستان میں فروخت، پی اے سی نے رپورٹ طلب کرلی
اسلام آباد : پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے اجلاس میں بلیک واٹر کے زیراستعمال تین بم پروف گاڑیاں پاکستان میں مارکیٹ میں فروخت کے لیے موجود ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے، پی اے سی نے سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔ پی اے سی نے پاکستان مخالف نعرے لگانے والے افغان شہریوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی۔ پی اے سی نے پاک افغان سرحد سے ڈالر کی اسمگلنگ کو روکنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کرلیں۔ کمیٹی کی ملک بھر میں کالے شیشے والی گاڑیوں کے خلاف آپریشن کی ہدایت۔نور عالم خان کی زیر صدارت پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کااجلاس ہوا جس میں وزارت داخلہ، سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ آئی جی ایف سی کے پی کے کی اجلاس میں عدم شرکت پر پی اے سی نے اظہار برہمی کیا۔ نور عالم خان نے کہا کہ اداروں کے سربراہان کیوں اجلاس میں نہیں آتے، کام نہیں کر سکتے تو عہدے چھوڑ دیں۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اگر میں یہاں موجود ہوں تو سب کو آنا چاہئیے۔ اجلاس کے دوران رکن شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ میں نے سوئی نادرن کی چیئر پرسن کے حوالے سے ایک اعتراض اٹھایا تھا، سیکرٹری پیٹرولیم نے اس حوالے سے غلط بیانی کی۔ نور عالم خان نے کہا کہ چیئرپرسن ایس این جی پی ایل بورڈ کی تقرری غیر قانونی طور پر کی گئی۔ پی اے سی نے چیئرپرسن ایس این جی پی ایل بورڈ روحی خان کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ایک ادارہ ہے جو لوگوں کی کالز ریکارڈ کرتا ہے۔ اس ادارے سے ملازمین کی تفصیلات تو منگوائیں۔ آئی بی کے اہلکار سارا دن پارلیمنٹ لاجز میں بیٹھے رہتے ہیں۔ سارا دن آئی بی، اسپیشل برانچ اور پولیس اہلکار بیٹھ کر ہر آنے والے کو دیکھتے رہتے ہیں۔ ان اہلکاروں کو پارلیمنٹ لاجز سے نکالا جائے۔ نور عالم خان نے کہا کہ آئی بی والوں کو اجلاس میں طلب کیا جائے گا لیکن ان ایجنسیوں کا کام تخریب کاری کو روکنا ہے۔ اگر کوئی واقعہ ہوا تو ذمہ دار کون ہو گا۔ پی اے سی نے پاکستان مخالف نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ حال ہی میں کراچی پریس کلب کے سامنے افغانیوں نے پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ یو اے ای میں پاکستان مخالف نعرے لگانے والے افغانیوں کو وہاں کی حکومت نے تو ڈی پورٹ کردیا لیکن پاکستانی حکومت نے انہیں ملک میں آنے کی اجازت دی۔ نور عالم خان نے کہا کہ جب بھی کہیں تخریب کاری ہوتی ہے تو تخریب کار سے پاکستانی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نکلتا ہے۔ میں افغان شہریوں کو مہاجر نہیں مانتا۔ ایک ملک کے شہری کئی دہائیوں سے پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ پاک افغان سرحد سے بغیر سفری دستاویزات کیوں افغانیوں کو آنے دیا جاتا ہے۔ نور عالم خان نے کہا کہ افغان شہری ہمارے خاندانوں میں در اندازوں کی طرح داخل ہو چکے ہیں۔ پی اے سی نے نادرا سے افغان شہریوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ جن افغان باشندوں کے پاکستانی شناختی کارڈ بنے اور جن کے اب تک منسوخ کیے گئے ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ افغانیوں کے شناختی کارڈ بنانے والے نادرا اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات بھی بھجوائیں۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ جن نادرا اہلکاروں کے خلاف خفیہ اداروں کی انکوائری چل رہی ہے ان کے نام بھی بھجوائیں۔ پی اے سی نے پاک افغان سرحد سے ڈالر کی اسمگلنگ کو روکنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کرلیں۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ نادرا میں کئی ایسے افسر تعینات ہیں جن کے خلاف آئی ایس آئی یا آئی بی رپورٹس موجود ہیں۔نادرا کے کئی ڈی جیز ایسے افسران کی بھرتیوں میں ملوث ہیں۔ پی اے سی نے آئندہ اجلاس میں چیئرمین نادرا سے بریفنگ طلب کر لی، خفیہ اداروں کے نمائندوں کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا گیا۔ دوران اجلاس چیئرمین پی اے سی نے انکشاف کیا کہ بلیک واٹر کے زیر استعمال بم پروف تین گاڑیاں ایک مقامی کمپنی فروخت کر رہی ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ بم پروف گاڑی مارکیٹ میں فروخت نہیں کی جا سکتی۔ پی اے سی نے بلیک واٹر کے زیر استعمال بم پروف گاڑیاں مارکیٹ میں آنے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ پی اے سی نے اسلام آباد میں امن و امان کے حالات خراب ہونے پر اظہار تشویش کیا۔ نور عالم خان نے کہا کہ ایک خاتون کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اب تک کیا کارروائی کی گئی۔ آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ایف نائن پارک واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ کوشش ہو گی ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل کر لیں۔ پی اے سی نے اسلام آباد سمیت تمام شہروں میں کالے شیشے والی گاڑیوں کے خلاف آپریشن کی ہدایت کر دی۔ کمیٹی نے چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے آئی جیز کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا۔چیف کمیشنر اسلام آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں گذشتہ پانچ ماہ کے دوران 9 سو سیف سٹی کیمرے مزید لگائے گئے ہیں۔ ایف نائن پارک میں بھی کیمرے لگائے جا رہے ہیں۔


