قیصر بنگالی بھی بلوچستان کے شہری نہیں،این ایف سی ممبر کے لیے نام دو،جام کمال کی اپوزیشن کو دعوت

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومت نے قیصر بنگالی کو این ایف سی ایوارڈ کیلئے نامزد کیا تھا بلوچستان کا شہری نہیں تھاجاوید جبار نے بڑا پن کا مظاہرہ کیا ہے ہم نے بڑے سوچ بچار کے بعد جاوید جبار کو این ایف سی کیلئے نامزد کیا تھا اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ قومی مالیاتی کمیشن کیلئے نام دیں جن لوگوں نے تنقید کی انہیں کہا کہ آپ کسی ممبر کا نام دیدیں ہم صرف بلوچستان کا کیس لڑنا چاہتے ہیں چاہیے وہ کوئی بھی لڑیں عوام سے اپیل ہے کہ کورونا وائرس کو آسان نہ لیں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں کورونا وائرس بلوچستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے اور مقامی افراد میں وائرس تیزی پھیل رہا ہے ان خیالات کااظہار وزیراعلیٰ جام کمال نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عوام کو یقین دلا رہے ہیں کہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں باقی صوبوں کی طرح بلوچستان کو بھی مشکلات کا سامنا ہے این ڈی ایم اے اور بلوچستان حکومت پی پی ایز کٹس کی خود خریداری کی ہے اور این ڈی ایم اے نے پی سی آر مشین اور دیگر طبی سامان دیا ہے ڈھائی مہینے سے ہمارے ڈاکٹرز کورونا سے لڑرہے ہیں اور کود شکار ہوگئے کورونا وائرس سے آنے والے بجٹ میں بیسک ہیلتھ سینٹرز کو فعال کرینگے ا ٓنے والے بجٹ میں صحت کی شعبہ کو خصوصی توجہ دی جائیگی بلوچستان میں 70وینٹی لیٹرز موجود ہیں بلوچستان میں مکمل سہولتوں کے ساتھ 35وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں ماضی کی حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن کیلئے قیصر بنگالی کو نامزد کیا تھا وہ بلوچستان کا شہری نہیں تھاجاوید جبار نے بڑا پن کا مظاہرہ کیا ہے ہم نے بڑے سوچ بچار کے بعد جاوید جبار کو این ایف سی کیلئے نامزد کیا تھا کہ بلوچستان کا کیس مضبوط کرنا تھا جنہوں نے مخالفت کیا ہے ان کو چیلنج دیا ہے کہ آپ قومی مالیاتی کمیشن کیلئے نام دیں پاکستان میں اسکول ٹرانسپورٹ ایئر پورٹس،سول سیکرٹریٹ سب سے پہلے بلوچستان نے بند کر دیا تھا بلوچستان کے تمام اضلاع میں لاک ڈاؤن نافذ العمل ہے اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ قومی مالیاتی کمیشن کیلئے آپ نام دیں جن لوگوں نے تنقید کی انہیں کہا کہ آپ کسی ممبر کا نام دیدیں ہم صرف بلوچستان کا کیس لڑنا چاہتے ہیں چاہیے وہ کوئی بھی لڑیں عوام سے اپیل ہے کہ کورونا وائرس کو آسان نہ لیں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں بلوچستان کی پہلی حکومت ہے راشن تقسیم میں اپوزیشن بھی کمیٹی کے ممبر تھے اور انہوں نے بھی تقسیم کیا بلوچستان میں آج تک 7ارب روپے کا راشن پیکج خرچ نہیں ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں