70 سے پہلے کراچی حیدرآباد اور سکھر کی آبادی 40 فیصد تھی لیکن اب تو پورا کابل، رنگون اور ڈھاکہ بھی یہاں آچکا ہے، خالد صدیقی
کراچی (این این آئی)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اس شہر کے میں تمام زبانیں بولنے والے شہریوں سے کہتا ہوں کہ جن کے دکھ درد، مسائل ایک جیسے ہیں ہم سب کو اپنے برابر کا حق دار اور وفا دار سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہاں کشادہ دلی اور مہمان نوازی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر سے لوگ یہاں آکر کام کرتے ہیں، یہاں مواقع ہی زیادہ نہیں بلکہ دل بھی بڑے ہیں، آپ سب باہر نکلیں کیونکہ مردم شماری کے سلسلے میں کی جانے والی یہ زیادتی کراچی میں رہنے والے تمام عوام کے ساتھ زیادتی ہے اور وہ تمام سیاسی جماعتیں جنہوں نے پورے شہر میں بینر لگا دئیے ہیں انکا کام صرف بینر لگانا نہیں ہے آئیں وہ ہمارا ساتھ دیں ناکہ ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز سے متصل پارک میں میڈیا کے نمائندوں سے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ کراچی اور حیدرآباد میں ایک بلاک میں 187 گھر ہیں جبکہ پورے پاکستان میں ایک بلاک میں اوسط 250 گھر ہیں،کراچی کی 53 لاکھ آبادی کو تو سیدھے سیدھے حساب کے تحت کم کر دیا گیا ہے،کراچی کی آبادی کو ایک فارمولے کے تحت کم کیا جارہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ نادرا کے ڈیٹا کے مطابق کراچی کے ایڈریس پر 2 کروڑ افراد کو شناختی کارڈ کا اجرا ہوا ہے، کراچی میں دیگر صوبوں سے آنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔جو روزگار کے حصول کے لیے کراچی کا رخ کرتے ہیں کیا وہ تمام لوگ کراچی کا پانی بجلی گیس سڑکیں اور دیگر انفرا اسٹرکچر استعمال نہیں کر رہے ہیں 70 سے پہلے کراچی حیدرآباد اور سکھر کی آبادی 40 فیصد تھی اب تو پورا کابل رنگون ڈھاکہ بھی یہاں آچکا ہے۔ اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینرز ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل، مصطفی کمال ،ڈپٹی کنوینرز انیس قائم خانی عبد الوسیم، دیگر اراکینِ رابطہ کمیٹی و حق پرست اراکین اسمبلی بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ 5 سال سے مستقل اپنے اندیشوں، مسئلوں اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں 1951 سے 1971 سے اب تک سندھ کے شہری علاقوں خصوصا کراچی کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔اپنے مشاہدہ کی وجہ سے 2017 کی مردم شماری سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں اپنے خدشات لے گئے۔ 2017 میں آبادی میں بڑی ڈنڈی ماری گئی مردم شماری پر اب تک جتنی بھی آواز اٹھی وہ ایم کیو ایم نے اٹھائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مردم شماری 9 سال بعد ہوئی تو ہم نے اس بار مردم شماری 4 سال قبل کروا دی لیکن اس بار بھی ہمیں یقین ہو گیا کہ ایک قومی اتفاقِ رائے کی وجہ سے کراچی کی آبادی کو کم دکھایا جا رہا ہے اور ہماری نمائندگی جو بنتی تھی اس سے بھی 20 فیصد کم نمائندگی کی گئی،ہمارے خدشات یقین میں تبدیل ہو گئے کہ یہ ایک خاص فارمولے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ ہم ریاست، حکومت، عدالت سے سوال کرتے ہیں کہ کراچی کے ساتھ یہ پالیسی کیوں ہے؟ حالیہ مردم شماری میں عجیب و غریب قسم کا نتیجہ سامنے آرہا ہےعالمی حالات کہتے ہیں کہ کہیں سب سے زیادہ اربنائزیشن ہوئی ہے تو وہ کراچی ہے۔ اگر ایم کیو ایم اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ نہیں کرتی تو کراچی کی آبادی 1 کروڑ 40 لاکھ ہوتی اب مدت بڑھی تو 1 کروڑ 60 لاکھ ہو گئی ریاست جواب دے کہ ہم سے کس کو خطرہ ہے؟۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد میں 2017 کی مردم شماری سے بھی کم بلاکس رکھے گئے جبکہ سندھ میں 17 فیصد سے زائد بلاکس بنائے گئے کیا کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور گنجان آباد شہر ہے جس میں صرف 9 فیصد اضافہ کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم عدلیہ سے سوال کرتے ہیں جس کے دل میں بہت درد ہے پاکستان کا اور ہر معاملے پر سوموٹو لیا جاتا ہے وہ ایک مخصوص قومیت کو دیوار میں چنوانے پر کیوں خاموش ہے اور میں ریاست کے چوتھے ستون میڈیا سے بھی کہتا ہوں آج کے ٹاک شوز اس پر رکھیں۔ سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی کہاں چلی گئی کراچی کو اس طرح گھیر لیا گیا ہے کہ یہ پھیل نہیں رہا مزید اوپر جا رہا ہے۔ 80اور 120 گز کے پلاٹ پر 4 منزلہ 8 گھر تعمیر ہو رہے ہیں 2018 میں اخلاقی طور پر جیتے تھے، 45 سے 47 ہزار کثیر المنزلہ عمارتیں موجود ہیں کئی ایسی عمارتیں بھی ہیں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں کراچی کی 32 ہزار عمارتوں میں مردم شماری کا عملہ نہیں گیا، یا گیا تو دوسری منزل سے واپس آگیا۔ ہر منزل اپنے آپ میں بلاک ہے، مردم شماری میں ہونے والی نا انصافیوں کی وجہ سے کے مطابق شہر تباہ حال ہے، یہاں روزگار نہیں، شہر بانجھ ہو چکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے نیچرل گروتھ بھی ہو رہی ہے جس مردم شماری کو ریاست نے قبول کیا کہ یہ دھاندلی زدہ تھی اس میں 5.8 نفوس فی گھر کراچی کی آبادی تھی اب 4.7 کر دیا گیا۔ کراچی والے روزانہ صبح نکلتے ہیں کہ پورا پاکستان چلے روزگار، کھانا، امن و مان ہو چاہے یہاں یا نہ ہو۔ کراچی والے سب سے زمہ داری کے ساتھ ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں، مردم شماری میں مجرمانہ غفلت کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے یہ بات سب کو یاد رکھنی چاہئے کہ کراچی جاگتا ہے تو پورا ملک چلتا ہے۔سینئر ڈپٹی کنونئر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 2023 کی مردم شماری میں جو اعدادوشمار آئے ہیں ان سے ثابت ہوا ہے کہ دانستہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، شمار کنندگان کے ساتھ مل کر شہری سندھ کی آبادی کو کم اور دیہی سندھ کو مصنوعی طور پر بڑھا رہی ہے۔ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ کراچی سے آبادی سکھر نواب شاہ منتقل ہو گئی ہو۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کی آبادی 14 فیصد سے بڑھے اور کراچی کے 9 فیصد سے، کراچی میں 10 لاکھ گھرانے اور حیدرآباد میں 1.5 لاکھ، 53 لاکھ کراچی میں جبکہ ساڑھے 7 لاکھ حیدرآباد میں کم کردی گئی۔ سارے اعدادوشمار کو رکھیں تو ہمارے گھرانے 32.5 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد رہ گئے، 24 فیصد لاڑکانہ اور کراچی کی آبادی میں سوا فیصد بڑھائی گئی۔ ایسا تعصب مشرقی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ بھی روا نہیں رکھا گیا۔ کراچی ہر زبان بولنے والوں کا شہر ہے۔ ساڑھے تین ہزار بلاکس ایسے ہیں جن میں 2017 سے آبادی کم ہے۔ 16 ہزار بلاکس میں مردم شماری کم ہوئی یہ خود پاکستان بیورو آف اسٹیٹس قبول کر رہا ہے۔ ہر جگہ ڈنڈا مارا گیا ہے، آبادی، بلاکس کو کم کر دیا گیا۔ کراچی ساڑھے تین کروڑ کی آبادی والا شہر ہے، صحیح آبادی آگئی تو وزیر اعلی یہاں سے ہوگا۔ عوام اور خواص سوچیں پاکستان کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔


