بڑھتے مظالم کے باعث بلوچ قوم کا پاکستان کے عدالتی نظام سے اعتبار اٹھ گیا، حق دو تحریک

تربت (نمائندہ انتخاب) حق دو تحریک بلوچستان کیچ کے ترجمان نے کہاہے کہ حق دو تحریک بلوچستان کے سینئر سرکردہ رہنما،میونسپل کارپوریشن گوادر کے وائس چیئرمین ماجد جوہر کی ضمانت منسوخ کرنے، عدالت کے احاطے سے گرفتاری عدالتی نظام سے بلوچ قوم کا اعتماد اٹھ جانے اوراعتبار ختم کرنے کے مترادف ہے، حق دو تحریک بلوچستان پر ریاستی اداروں کی طرف سے پکڑ ڈھکڑ کا عمل مسلسل جاری ہے، قائد تحریک مولانا ہدایت الرحمن بوگس وجعلی الزامات کے تحت پابند سلاسل کر کے انہیں اپنی سرزمین بلوچستان پر ہونے والے ظلم زیادتیوں کیخلاف بولنے کے پاداش میں سزا دی جا رہی ہیں، حق دو تحریک بلوچستان کے قائدین وکارکنان پر آج بے شمار مقدمات میں نامزدگی 900 سے زائد کارکنان وذمہ داران پر بوگس جعلی مقدمات میں ایف آئی آر کرنا بلوچستان بلوچ قوم کے حقیقی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہیں بلوچستان میں ہر چیز پر مقتدر قوتوں نے قدغن لگائی ہے، بلوچستان فرزندوں کی جبری گمشدگیوں کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ تاحال جاری ہیں بلوچستان کے ساحل وسائل پر قابض گیر استحصالی قوتیں کے ظلم سے آج پوری دنیا آشکار ہو چکی ہیں یہاں گزشتہ 75 سال سے بلوچستان،بلوچ قوم کے ساتھ ریاست اور ریاستی اداروں کے لوگ کتنی ظلم کر رہے ہیں خواتین بچوں کی جبری گمشدگیاں ماورائے عدالت بلوچ فرزندوں کی قتل عام کوئی نئی چیز نہیں یہاں جانوروں سے بدترین سلوک بلوچستان میں بلوچ قوم کیساتھ کی جا رہی ہیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں یہاں بلوچستان میں کی جا رہی ہیں، حق دو تحریک اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں انشاء اللہ بلوچ دھرتی پر ریاستی ظلم پر کبھی خاموش نہیں رہیں گے، قید و بند ہماری جدوجہد کے راستے میں حائل نہیں ہوں گے، بجائے ہماری حقوق تسلیم کرنے کے بجائے ریاستی ادارے تشدد پر اتر آئے ہیں، اب یہ ظلم وجبر کا سلسلہ مزید چلنے والی نہیں، آج بلوچستان بلوچ قوم کا بچہ بچہ اپنی حقوق سے آشنا ہو چکی ہیں، دنیا کی کسی سامراجی قابض گیر نے طاقت کے بل بوتے کسی مظلوم پر بادشاہت نہیں کیا اگر طاقت کے بل بوتے پر کسی کا راج ہوتا تو آج بلوچستان پر انگریز سامراج کا راج ہوتا سو سالہ خونی جنگ بلوچ قوم نے انگریز سے جوان مردی دلیری کیساتھ اپنے محدود وسائل کیساتھ لڑ کر اپنے ساحل وسائل کا دفاع کیا اچھی طرح اپنے حقوق کی دفاع کرنا جانتی ہیں بلوچ عدالتی نظام کو ساحل وسائل کی لوٹ مار کرنے والوں کو تحفظ دینے کے بجائے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ عدالتوں سے بلوچ نوجوانوں کا اعتماد اٹھ کر انکی طرف دیکھنا چھوڑ دے تو اس کی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے آج چونکہ بلوچستان میں زیادہ تر لوگوں کی اعتماد اس ملک کے اداروں سے اٹھ چکی ہیں وہ اسی طرح سیاست کرنے کے قائل نہیں ہیں اگر بچے کچے لوگوں کو اسی طرح مایوس کیا گیا تو اسکی ذمہ دار بلوچ سیاسی لیڈران نہیں مقتدر قوتیں ہوں گے سانحہ بنگال کی خطرناک شکست سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں