ایران میں تین سیکورٹی اہلکاروں کو قتل کرنیوالے 3 افراد کو پھانسی دیدی گئی
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ سال پھیلنے والے فسادات کے دوران ایک حملے میں تین ایرانی سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے مجرم تین افراد کو جمعے کو اصفہان میں پھانسی دے دی گئی۔ ایران کی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ سزا پانے والوں نے اصفہان میں فسادات کے دوران کالعدم ایم کے او تنظیم سے مسلح حملے کرنے کے احکامات لینے کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کی طرف سے سزا یافتہ مجرم کو سزائے موت دینے کا اعلان عدلیہ سے منسلک نیوز سائٹ میزان کے ذریعے کیا گیا تھا۔ پھانسی پانے والوں میں ماجد کاظمی، صالح میر ہاشمی اور سعید یغوبی شامل ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذکورہ افراد کالعدم ایم کے او تنظیم کے ساتھ رابطے میں تھے اور انہیں البانیہ میں مقیم گروپ کی جانب سے مہلک حملہ کرنے کا حکم ملا تھا۔ اسی حملے میں سزا پانے والے دیگر افراد کو بھی جیل کی سزائیں سنائی گئیں، جب کہ ایک شخص کو تحقیقات کے بعد رہا کر دیا گیا۔ گزشتہ ستمبر میں فسادات کے آغاز کے بعد، ایرانی سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس یونٹس نے بہت سے ایسے شواہد کا پردہ فاش کیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیرونی ممالک فعال طور پر ایران میں فسادیوں کی مالی معاونت اور تربیت کر رہے ہیں اور تخریبی گروہوں کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے نومبر کے وسط میں انکشاف کیا کہ ایران میں حالیہ فسادات کے رہنماو¿ں نے سات ممالک میں تربیت حاصل کی۔ مئی میں، ایرانی سیکورٹی فورسز نے اعلان کیا کہ انہوں نے مجاہدین خلق آرگنائزیشن MKO یا MKE کے ساتھ ساتھ فرانسیسی انٹیلی جنس سے تعلق رکھنے والے نیٹ ورک کے ارکان کو گرفتار کیا۔ اکتوبر کے آخر میں، ایرانی وزارت انٹیلی جنس اور آئی آر جی سی کے انٹیلی جنس ونگ نے انکشاف کیا کہ تہران کو حاصل کردہ انٹیلی جنس اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سی آئی اے اور اتحادی انٹیلی جنس سروسز نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف سازش کی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سازش کا مقصد ایرانی عوام اور ایران کی علاقائی سالمیت کے خلاف جرم کرنا ہے۔


