نیشنل پارٹی کا بلوچستان کیلئے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کا مطالبہ

تربت(نمائندہ انتخاب ) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو احساس نمائندگی دلانے کیلئے بلوچستان کیلئے قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ طویل رقبہ کے حامل صوبہ کی وفاق اور صوبہ میں بہترنمائندگی ہوسکے ، بلوچستان اسمبلی کی نشستیں 51سے دوگنی کرکے 102کردی جائیں ،ضلع کونسل کیچ کے چیئرمین شپ کے چناﺅ کے سلسلے میں بی این پی اور ان کے اتحادیوں سے رابطے جاری ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی رہنما¶ں کے ہمراہ تربت پریس کلب کے دورہ پر گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر محمد نور ، ضلعی صدر مشکور انور ایڈووکیٹ، مرکزی کمیٹی کے رکن محمد جان دشتی اور بی ایس او پجار کے مرکزی وائس چیئرمین بوہیر صالح ان کے ہمراہ تھے جبکہ اس دوران بی این پی عوامی کی مرکزی نائب صدر ظریف زدگ بلوچ نے بھی ان سے ملاقات کی اور سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا، جان محمد بلیدی نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ خالصتاً سیاسی ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی حل کیا جاسکتا ہے، اسمبلیوں میں بلوچستان کی نمائندگی کم ہے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں آبادی کو مدنظر رکھ کر جو حلقہ بندیاں کی گئی ہیں اس سے طویل رقبہ کے حامل بلوچستان کے عوام کی نمائندگی حقیقی معنوں میں نہیں ہوپارہی ہے اورکم نشستیں ہونے کی وجہ سے حکومتوں کی تشکیل اور سینیٹ الیکشن میں اکثر خریدوفروخت ہوتاہے نشستیں بڑھ جانے سے خریدوفروخت ایک حد تک مشکل ہوجائے گی ، ان کاکہناتھاکہ بلوچستان انتہائی وسیع وعریض صوبہ ہے پسماندگی اور غربت بھی زیادہ ہے ، طویل رقبہ پر قومی اور صوبائی اسمبلی کی حلقہ بندی سے حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی اورفنڈز کی دستیابی کم ہونے سے عوام خود کو سسٹم کا حصہ نہیں سمجھتے اس لئے بلوچستان سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے پر غورکیاجائے اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو دگنی کردیاجائے ، انہوں نے کہاکہ بلدیاتی الیکشن میں ڈسٹرکٹ چیئرمین کی نشست پر نیشنل پارٹی ہم خیال جماعتوں اور الائنس کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ بی این پی اپنی اتحادیوں کے ہمراہ ہے، ہماری بات چیت اور رابطے بی این پی سے جاری ہیں ، اس حوالے سے گزشتہ روز بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ ودیگر رہنماﺅں کے ساتھ بھی خصوصی نشست ہوئی ، دونوں جماعتیں غیر سیاسی عناصر کا راستہ روکنے پر متفق ہیں البتہ ابھی تک دونوں جماعتوں نے ڈسٹرکٹ چیئرمین الیکشن کے حوالے سے ٹی او آرزطے نہیں کیے ہیں، انہوں نے کہاکہ سیاسی چہرے بلوچستان کی پہچان ہیں مگر بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کو کنارے لگاکر غیر سیاسی عناصر عوام پر مسلط کیے جاتے رہے ہیں عام انتخابات کے بعد اب نوبت لوکل باڈیز الیکشن تک پہنچی ہے اس سے بڑی بد بختی اور کیا ہوگی کہ عوام سے ان کے رائے دہی کا حق چھین لیا جائے، جان محمد بلیدی نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، سیاسی انداز میں ہی بلوچستان کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے، لیکن مقتدر قوتیں اس پر سنجیدہ نہیں ہیں ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ عوامی نمائندوں کو سائیڈ لائن لگاکر ایسے تابعدار لوگوں کو نمائندگی کے نام پر مسلط کیا جائے جو سیاسی شعور سے بے بہرہ ہوں لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ الٹ نکلا ہے جس کی سب سے بڑی مثال 2018ءکے الیکشن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں