روسی اور یوکرینی فوج کے درمیان حائل ڈیم ٹوٹ گیا، نیو کلیئر پلانٹ کو پانی کی فراہمی معطل

کیف (مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی یوکرین میں روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان حائل ’دی نووا کاخوفکا ڈیم‘ ٹوٹنے سے محاذ جنگ سمیت کئی علاقے زیر آب آگئے جبکہ زاپوریز ہیانیو کلیئر پلانٹ کو بھی پانی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ ڈیم ٹوٹنے کے بعد روسی افواج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئی ہیں جس کیلئے یوکرین مغرب کی جانب سے فراہم کردہ ٹینکوں کی مدد سے کافی عرصے سے کوششیں کررہا تھا۔ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جانب سے ڈیم توڑنے کا الزام روس پر عائد کیا گیا ہے تاہم روس نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے یوکرین اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے حقائق سے توجہ ہٹانے کی سازش قرار دیا ہے۔ دریائے نیپرو پر قائم نووا کاخوفکا ڈیم جنوبی یوکرین سمیت روسی علاقے کرائمین پیننسولا میں زراعت اور عام استعمال کیلئے پانی فراہم کرتا تھا جبکہ زاپوریزہیا (Zaporizhzhia) جوہری پلانٹ میں کولنگ کے عمل کیلئے بھی اسی ڈیم سے پانی لیا جاتا تھا۔ ڈیم ٹوٹنے کے بعد اقوام متحدہ کے جوہری واچ ڈاگ کا کہنا تھا کہ زاپوریزہیا جوہری پاور پلانٹ میں ری ایکٹرز کی کولنگ کیلئے کافی مقدار میں پانی درکار ہوگا جو کہ اب اس ڈیم سے تھوڑی دور واقع ایک پانی کے تالاب سے مہیا ہوگا اور تالاب کو اسی ضرورت کیلئے مختص کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں