سابق وائس چانسلر نے گزشتہ 16 سال میں فنڈز کا غیر ضروری اور بے دریغ استعمال کیا، بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن

کوئٹہ:بیوٹمز اسٹاف ایسو سی ایشن کے صدر نعمان خان نے کہا ہے کہ بیوٹمز کے سابق وائس چانسلر کے گزشتہ 16سالہ دور کی انتہائی غلط پالیسیوں،فنڈز کے غیرضروری اور بے دریغ استعمال نے جامعہ کو شدید مالی بحران کاشکار بنا دیا ہے، تنخواہ ملازمین کابنیادی حق ہے لیکن بیوٹمز ملاز مین اس وقت اپنے بنیادی حق سے بھی محروم ہیں،بیوٹمز ملازمین کے لئے سروس اسٹر یکچر، پر موشن اور ٹائم اسکیل کا کوئی نظام نہیں ہے، وفا قی حکومت وفاقی بجٹ میں یونیورسٹیز کے لئے 200ارب جبکہ صوبے حکومت کم از کم 10ارب روپے مختص کریں،ہمارا مطالبہ ہے کہ جامعہ کو معاشی طورپر دبانے کے دہانے پرپہچانے والے سابق وائس چانسلر کے لئے منظور نظر انتظامی ٹیم کے مالی اثاثوں کی چھان بین اور قانون کے مطابق احتساب کیا جائے بیوٹمز ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر آج سے جامعہ کے مین گیٹ پر دھرنا دیں گے۔یہ بات انہوں نے بدھ کو سینئر نائب صدر سہیل انور بلوچ، جنرل سیکر ٹری شمس الھدیٰ مندو خیل کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی مذہب اور تر قی یا فتہ قوم تعلیم کو سب سے پہلی ترجیح پر رکھتے ہیں حتیٰ کہ کچھ تر قی پذیر ممالک نے بھی تعلیم کے مقدس شعبے کو سب سے زیا دہ تر جیح دی جس کی بدولت انہوں نے دنیا کے ہر شعبے میں ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بے روزگاری، شدت پسندی، مذہبی منافرت ان کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفا قی حکومت ہایئر ایجوکیشن کمیشن کوسالانہ 65ارب روپے دیتی ہے جس میں ایچ ایس سی اپنے اخراجات، تنخواہوں، کرائے،سیمینار،کانفرنسز اوراسکالر شپس کے علا وہ ملک کے 145سے زائد پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کو بھی گرانٹس دیتی ہے پچھلے سالوں کی طرح خدشہ یہی ہے کہ وفا قی حکومت اس دفعہ بھی ایچ ای سی کو 65ارب روپے دے رہی ہے جبکہ ضرورت 200ارب کی ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت بلو چستان کے 11پبلک سیکٹر یونیورسٹیزکو 2021سے ابھی تک مجمو عی طورپر صرف ڈھائی ارب روپے دیتی ہے حالانکہ 2022میں ملازمین کی تنخواہوں میں ضافہ بھی کیا اور پے اسکیل بھی ریوائیز کئے گئے اس کے باوجود جامعات کا بجٹ وہی ڈھائی ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے صوبے کی بجٹ میں اس سال بھی صرف ڈھائی ارب رکھنے کی تجویز ہے جو انتہائی ناکا فی ہے جبکہ صرف دو بڑی یونیورسٹیز بیوٹمز اور یونیورسٹی آف بلو چستان کی سالانہ تنخواہیں 5ارب روپے کے قریب بنتی ہے اس لئے صوبے کی دو بڑی جامعات سمیت دیگر جا معات تاریخ کی بد ترین مالی بحران کا شکارہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے دیگر صوبوں میں ہایئر ایجو کیشن کے لئے 15ارب روپے سے زیا دہ فنڈز مختص کئے گئے ہیں جبکہ اس سال صرف صوبہ سندھ میں جامعات کابجٹ 15ارب روپے سے بڑھا کر 22ارب روپے کر نے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہاکہ 20سال کی قلیل مدت میں بیوٹمز مالی طورپر مکمل خسارے میں چلی گئی ہے بیوٹمز کے سابق وائس چانسلر کی گزشتہ 16سالہ دور کی انتہائی غلط پالیسیوں اور فنڈز کے غیرضروری اور بے دریغ استعمال نے جامعہ کو شدید مالی بحران کاشکار بنا دیا ہے،بیوٹمز کے پاس نہ تو ملازمین کو تنخواہیں ادا کر نے کے لئے فنڈز ہیں اور نہ ہی طلباءکے بسوں کے اخراجات کے لئے اور نہ ہی بجلی گیس کے بلوں کے پیسے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال سے بیوٹمز ملازمین تیسری مر تبہ اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں جسکی تمام تر ذمہ داری بیوٹمزانتظامیہ اور صوبائی حکومت پر عائد ہو تی۔ انہوں نے کہاکہ ملک اپنی تاریخ کے بد ترین مہنگائی کے دور سے گزررہا ہے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بجائے پرانی تنخواہیں بھی روک دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت بیوٹمز کے مالی معاملات کے حوالے سے اگر اسپیشل آڈٹ یا تحقیقات کر نا چاہتی ہے تو ہم اس عمل کوسراہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ بیوٹمز سمیت با قی اداروں کی بد عنوانیوں کا احتساب کس نے کر نا ہے؟، انہوں نے کہاکہ اے جی آفس کی جانب سے آڈٹ ہر سال ہوتا ہے اگر بد عنوانیاں ہوئی ہیں تو پھر ذمہ دار لوگ احتساب سے کیسے بچ جا تے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پنشن فنڈز کی مدمیں 8ارب روپے کی شارٹ فال ہے، جی پی فنڈز کے نام پر ای ایف یو کی ناکام انو سٹمنٹ پالیسی لی گئی جو 12گزرنے کے باوجود منافع بخش نہیں ہے، بیو ٹمز ملازمین کو کوئی ہیلتھ پالیسی نہیں اورنہ ہی حکومت بلو چستان کی جانب سے میڈیکل اخراجات کی ادئیگی کی کوئی پا لیسی ہے۔انہوں نے کہاکہ بیوٹمز کوئٹہ کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں واحد یونیورسٹی ہے جن کے ملازمین کو ہاو¿س ریکو زیشن نہیں ملرہا جبکہ با قی یونیورسٹیز کومل رہا ہے، بیوٹمزواحد یونیورسٹی ہے جن کے ملازمین کو یوٹیلیٹی الاو¿نس نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیوٹمز کا ٹوٹل سالانہ آمدن 15سو ملین ہے جبکہ سالانہ اخراجات 2350ملین ہے لہذا سالانہ خسارہ 850ملین ہے، عر صہ دراز سے بیوٹمز کے نا اہل انتظامیہ نے اصل حقائق کے بر عکس غلط اعداد و شمار سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو گمراہ کیا اور اپنی غلط پا لیسیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سابق وائس چانسلر نے اپنے لئے غیر قانونی طورپر کروڑوں روپے کی گریجو یٹی، ماہانہ 7لاکھ کے قریب پنشن، تاحیات، میڈیکل کوریج اور اپنے کے لئے پرو فیسر ایمیر یٹس کی حیثیت بیوٹمز کے سینیٹ سے اپنے ایک دوست اس کے گورنر بلو چستا ن سے منظور کرایا جس کو چھپایا گیا تھا،گور نر بلو چستان کے مشکور ہیں انہوں نے غٰیر قانونی پنشن کو باقاعدہ غیر قانونی قرار دے دیا۔ انہوں نے کہاکہ بیوٹمز ملازمین کے لئے سروس اسٹر یکچر، پر موشن اور ٹائم اسکیل کا کوئی نظام نہیں ہے،بیو ٹمز یونیوسٹی کے لئے فوری طورپر بیل آو¿ٹ پیکیج ریلیز کیا جائے، وفا قی حکومت بجٹ میں یونیورسٹیز کے لئے200ارب روپے جبکہ صوبائی حکومت کم از کم ارب روپے مختص کریں، یونیورسٹیز ماڈل ایکٹ 2022میں ترامیم کے کر کے یونیورسٹی کے سینٹ، سینڈیکٹ، ایکیڈ یمک کاو¿نسل، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی میں ملازمین کی منتخب نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے اندر مالی، انتظامی اور ایکیڈیمک معاملات بطریقہ احسن چلانے کے لئے میرٹ پر عمل کیا جائے اور ایڈ ہاک ملازم سے گریز کیاجائے، بیوٹمز کے اندر تعینات کئے گئے جعلی پروفیسرز کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیاہے کہ جامعہ کو معاشی طورپر دبانے کے دہانے پرپہچانے والے سابق وائس چانسلر کے لئے منظور نظر انتظامی ٹیم کے مالی اثاثوں کی چھان بین اور قانون کے مطابق احتساب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بیوٹمز کے ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر آج جامعہ کے مین گیٹ پر دھرنا دیں گے جبکہ مطالبات منظور نہ ہوئے تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں