بھارتی عدالت نے مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم پر مبنی دستاویزی فلم نشر کرنے سے روک دیا
ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی عدالت نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو ملک میں ’مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم‘ پر مبنی دستاویزی فلم نشر یا جاری کرنے سے روک دیا۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ دی پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق الہٰ آباد ہائی کورٹ نے دوحہ میں قائم نیوز نیٹ ورک کو ’بھارت، کس نے فیوز روشن کیا‘؟ کے عنوان سے نیوز دستاویزی فلم جاری کرنے سے روکا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ہائی کورٹ نے زیر بحث فلم کے ٹیلی کاسٹ یا نشر ہونے سے نکلنے والے ممکنہ برے نتائج پر غور کرتے ہوئے زیر التوا ٹیلی کاسٹ کی درخواست کو مو¿خر کر دیا‘۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ درخواست سدھیر کمار کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور الزام لگایا گیا تھا کہ دستاویزی فلم ’ممکنہ طور پر مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان نفرت پیدا کر سکتی ہے اور یوں بھارتی ریاست کے سیکولر تانے بانے کو تباہ کر سکتی ہے‘۔ دی وائر نے رپورٹ کیا کہ عدالت نے مرکزی حکومت اور اس کے تحت تشکیل دی گئی اتھارٹیز کو ہدایت کی ہے کہ ’قانون کے مطابق مناسب اقدامات کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فلم کو ٹیلی کاسٹ، براڈ کاسٹ کرنے کی اجازت نہ دی جائے جب تک کہ حکام اس کے مواد کی جانچ اور اس مقصد کے لیے مجاز اتھارٹی سے ضروری سرٹیفیکیشن، اجازت حاصل نہ کرلی جائے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ عدالت میں الجزیرہ کی نمائندگی نہیں کی گئی اور یہ فلم دیکھنے کے لیے دستیاب نہیں تھی، اس نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ رجسٹرڈ، اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے الجزیرہ کی خدمت کے لیے 48 گھنٹوں کے اندر اقدامات کرے اور رٹ پٹیشن کی سماعت کے لیے 6 جولائی کی تاریخ مقرر کردی۔ دریں اثنا الجزیرہ نے دستاویزی فلم کو ’ملک میں ہندو انتہا پسند گروپوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم پر ایک تحقیقاتی فلم‘ قرار دیا۔ براڈکاسٹر نے کہا کہ اس دستاویزی فلم میں گواہی اور دستاویزات شامل کی گئیں ہیں اور اس میں ہندو انتہا پسند تنظیموں مثلاً حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتہائی دائیں بازو کی نظریاتی سرپرست راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، کی سرگرمیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔


