پیٹرول کی قلت کا زمہ دار کون؟
اداریہ
یہ پیٹرول کی قلت ہے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں اسے بجلی کی فراہمی میں کسی فنی خرابی جیسا عمل سمجھنا بھی درست نہیں۔ یقینا یہ کام سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔اس کے اہداف بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں عام آدمی بھی اب اتنا سیانا ہوگیا ہے کہ ”مافیا“جیسی اصطلاح اسے ازبر ہو گئی ہے۔وہ جانتا ہے کہ بیوروکریسی ان مافیاز کی مٹھی میں بند یاان کے گھر کی لونڈی ہوتی ہے۔حتّیٰ کہ عدلیہ کے بعض کمزوراخلاقیات کے رسیا،لالچی اور خودغرض افراد بھی ان کے اشاروں پر کٹھ پتلی کی طرح ناچتے دکھائی دیتے ہیں۔ملک عبدالقیوم اور ارشد ملک حالیہ تاریخ کے دو کردار ہیں جو میر جعفر اور میرصادق جیسے ہی بدبودار ہیں۔ان کا نام سنتے ہی شریف آدمی کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔عام آدمی تک لفظ ’مافیا‘ ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے پہنچا جس میں پاکستان کے انتہائی طاقتوراور بااثر سمجھے جانے والے خاندان کے لئے یہ اصطلاح استعمال ہوئی۔لیکن اس کی قوت کا اندازہ ملک میں ہونے والی گندم، آٹااور چینی کی حالیہ قلت کے فوراً بعد پیٹرول کو عین اسی روزپورے ملک غائب کر دیا گیا جب حکومت نے دوسری مرتبہ پیٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں کم کیں۔ عام آدمی کی سمجھ میں آگیاکہ طاقتور کون ہیں؟حکومت یا مافیاز؟۔عام آدمی میلو ں تک ایک پیٹرول پمپ سے دوسرے اور پھر دوسرے سے تیسرے پمپ تک مارا مارا پھرا۔انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔ادھر حکومت کی اپنی پندرہ سولہ ایجنسیاں دن رات اپنی رپورٹس وزیر اعظم کو بھیج رہی ہیں۔وزیر اعظم کے پاس وزراء، مشیر اور معاونین کی بھی ایک بڑی ٹیم موجود ہے۔ٹائیگر فورس کے لاکھوں باخبر اور عوام کے دکھ درد دور کرنے کی تڑپ دل میں لئے ان(وزیراعظم) کے ہمراہ ہے۔ایک دو دن کی قلت بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے مگر پیٹرول کی نایابی کو 10دن ہوگئے ہیں عام آدمی کے الفاظ:”اس سستے پیٹرول سے وہ مہنگا پیٹرول اچھا تھا جو ملتاتو تھا“۔ پیٹرول مافیا نے حکومت کو کھلے انداز میں چیلنج کیا ہے۔پہلے آٹا بحران، چینی بحران اور اب پیٹرول بحران سے ایک ہی جملہ ذہن میں آتا ہے


