خیبرپختونخوا و لاہور میں ریکارڈ بارش سے سیلابی صورتحال، 9 افراد جاں بحق

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ریکارڈ موسلا دھار بارش کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔پنجاب کے نگران وزیراعلی محسن نقوی کے مطابق 3 افراد بجلی کا کرنٹ لگنے سے، دو افراد گھر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچی سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوئی۔نگران وزیر اعلی نے کہا کہ آج لاہور میں ریکارڈ موسلا دھار بارش ہوئی ہے جس کی توقع نہیں تھی، ہم نے شہر کی سڑکیں صاف کرنے اور نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے شہر یے مختلف علاقوں میں ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور کنال میں تغیانی کے باعث مسلم ٹان، گارڈن ٹاون اور گلبرگ زیر آب آگئے ہیں۔نگران وزیراعلی نے کہا کہ رات 9 بجے بارش کا ایک اور مرحلہ متوقع ہے اور متعلقہ حکام اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ خود بھی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔قبل ازیں لاہور میں صبح سے ریکارڈ موسلا دھار بارش کے سبب سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش اور درخت گرنے کے سبب 3 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی(واسا) کے مطابق بارش کے نتیجے میں لاہور کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، خاص طور پر لکشمی چوک پر سب سے زیادہ 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اس کے علاوہ نشتر ٹان میں 277، پانی والا تالاب اور گلشن راوی میں 268 ملی میٹر بارش ہوئی۔مزید بتایا گیا کہ لاہور کے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر شہر کے علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ جمع ہونے والے پانی جیسے مسائل کو حل کیا جاسکے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں لاہور میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہنے کی توقع ہے۔قبل ازیں، نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کے مطابق لاہور میں 9 گھنٹے کے دوران ریکارڈ 272 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے، جس کے سبب سڑکوں پر پانی جمع ہوچکا ہے اور اربن فلڈنگ کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ اراکین اور انتظامیہ فیلڈ میں ہیں تاکہ پانی کی نکاسی کی جاسکے۔محسن نقوی نے بتایا کہ میں فیلڈ میں ہوں اور صورتحال کا جائزہ لے رہا ہوں، اور مسلسل اپڈیٹس لے رہا ہوں۔دریں اثنا، وزیراعظم شہبازشریف نے طوفانی بارش پر پنجاب حکومت کو فوری اقدامات کی ہدایت کر دیں۔جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے نگران وزیراعلی پنجاب کو امدادی ٹیموں کو فوری متحرک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، میونسپل اور متعلقہ اداروں کے اشتراک عمل کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے ضرورت پڑنے پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور وفاقی اداروں کو پنجاب حکومت کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شہریوں کو خبردار کرنے، ٹریفک کے متبادل انتظامات اور نکاسی آب کے لیے ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے ہدایت دی کہ دیہی علاقوں میں شہریوں کی بروقت محفوظ مقامات پر منتقلی، مال مویشیوں کو بچانے اور اربن فلڈنگ سے بچا کے لیے فوری اور ضروری اقدامات تیز کیے جائیں۔شہباز شریف نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا سمیت تمام پہاڑی علاقوں کی انتظامیہ کو بھی متحرک کرنے کی ہدایت کردی۔دوسری جانب، خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش اور درخت گرنے کے سبب 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا کے مطابق 2 افراد کی اموات شانگلہ جبکہ ایک خاتون کی موت کرک میں ہوئی۔بیان میں بتایا گیا کہ بارش سے منسلک حادثات کے سبب 7 افراد زخمی ہوئے اور 6 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔شدید بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کیں۔بیان میں کہا گیا کہ ریلیف سیکریٹری عبدالباسط نے حکام کو ہدایات جاری کیں کہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے۔دوسری جانب، محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے علاقوں میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے، جس سے ارب فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں