یورپ کے اہم ترین شہروں سے گزرنے والے دریائے سین میں عوام کے نہانے پر پابندی ختم
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) دریائے سین یورپ کے چند اہم ترین شہروں سے گزرتا ہے جن میں سے ایک فرانس کا دارالحکومت پیرس بھی ہے۔ مگر ایک صدی سے پیرس میں بہنے والے اس دریا میں کسی کو نہانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دریا اتنا آلودہ تھا کہ اس میں تیرنے یا غوطہ لگانے سے بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 1923ءسے اس دریا میں عوام کے نہانے پر پابندی عائد تھی۔ مگر اب پیرس کے حکام نے ایک ارب 40 کروڑ یورو خرچ کرکے اس دریا کو صاف کیا ہے جس کے بعد یہاں ایک بار پھر لوگوں کے لیے نہانا ممکن ہو جائے گا۔ یہ صفائی پیرس اولمپکس 2024ءکے لیے کی گئی ہے۔ اولمپکس اور پیرا اولمپکس کے کچھ مقابلے وسطی پیرس میں دریائے سین میں منعقد ہوں گے۔ پیرس کے ڈپٹی میئر اور اولمپکس کے انتظامی ٹیم کے سربراہ Pierre Rabadan نے بتایا کہ جب لوگ ایتھیلیٹس کو دریا میں تیرتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے اندر وہاں جانے کا اعتماد پیدا ہوگا۔ صنعتی مواد کے بہاو¿ اور نکاسی آب کے باعث دریائے سین بہت زیادہ آلودہ ہوگیا تھا جبکہ آبی حیات بھی متاثر ہوئی تھی۔ اسی کو دیکھتے ہوئے 1923ءمیں دریا میں نہانے پر پابندی عائد کی گئی، البتہ دوسری جنگ عظیم تک سالانہ کرسمس کراس ریور مقابلہ ہوتا رہا۔ پیرس کے 19 ویں صدی کے نکاسی آب کے سنگل سسٹم انفرا اسٹرکچر اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ تھا، جو ویسے تو ٹھیک کام کرتا ہے مگر زیادہ بارش ہونے پر گندا پانی دریائے سین میں جا کر مل جاتا تھا۔ اب اس کے لیے زیر زمین ایک بہت بڑا مرکز تعمیر کیا گیا ہے، جہاں شدید بارشوں کے دوران پانی ذخیرہ کیا جائے گا۔ یہ مرکز اگلے سال شیڈول اولمپکس تک کام کرنے لگے گا جس سے دریا کو مختلف کھیلوں کے لیے استعمال کرنا ممکن ہو جائے گا۔


