آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل سے سارا پاکستان چھاؤنی بن جائے گا، مشتاق احمد

اسلام آباد (صباح نیوز) سینیٹ میں جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے خبردارکیا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل سے سارا پاکستان چھاؤنی میں تبدیل ہو جائے گا اور خفیہ اداروں کو اندھے اختیارات مل جائیں گے ۔ سیاسی انسانی ، جمہوری ، آئینی حقوق متاثر ہوں گے ۔ غیر اعلانیہ طور پر قانونی مارشل لاء لگ جائے گا ۔ اس امر کا اظہار انہوں نے اتوار کو اجلاس کی کارروائی کے دوران کیا ۔ انہیں بل میں ترامیم کی اجازت نہیں دی گئی، اجلاس اتوار کو چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا ۔ سینیٹر مشتاق خان نے کہا کہ لا محدود اختیارات متذکرہ ترمیمی بل کے تحت برقرار ہیں اس بل میں معمولی مصنوعی قسم کی حکومت کی جانب سے ترامیم کی گئی ہیں جبکہ ایکٹ میں متعارف کردہ ترامیم کے خطرناک اثرات برقرار ہیں ۔ سادہ کاغذ ، تعلیمی اداروں ، این جی اوز ، خیراتی اداروں ، غیر ریاستی عناصر کا تذکرہ بھی ہے ۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترامیم خطرناک ہیں۔ اگر پارلیمنٹ نے اس ایکٹ کو ایسے ہی پاس کیا تو پورا ملک کنٹونمنٹ/ چھاونی بن جائے گا۔ اس ایکٹ کی وجہ سے غیر معمولی اندھے اختیارات انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پاس آ جائیں گے جس سے بشری حقوق، سیاسی آزادیاں، انسانی آزادیاں اور میڈیا کی آزادی شدید طور پر متاثر ہو گی۔ اس ایکٹ کے نتیجے میں حکومت قانونی مارشل لا لگارہی ہے آئینی شقوں 9,10 اور 10 ( اے ) کے علاوہ آرٹیکل 14 کے تحت شہری آزادی بنیادی حقوق کے معاملات منسلک ہیں انہیں نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے ۔ سینیٹر نوابزادہ عمر نے بھی بل کی مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح کے بلز پیش کرنا جمہوریت کے خلاف ہے ۔ بلوچستان میں جو پہلے غیر قانونی طور پر ہو رہا تھا اب قانون کے مطابق کریں گے ۔ کوئٹہ میں ہزاروں ایکڑ زمین جن کی ملکیت شہریوں کی ہے وہ اداروں کے قبضہ میں ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں