چمن احتجاج: پاکستان اور افغانستان کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت معطل

چمن:پاکستان میں افغانستان سے متصل صوبہِ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں مقامی تاجروں اور محنت کش افراد کے احتجاج کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی آمد ورفت معطل ہوگئی ہے۔
مقامی تاجروں اورمحنت کش افراد افغانستان آمدورفت کی اجازت نہ ملنے کے خلاف روزانہ احتجاج کررہے ہیں۔
چمن سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجروں اور محنت کش افراد کے ذریعہِ معاش کا انحصار افغانستان کی سرحدی منڈیوں سے وابستہ ہے۔ کورونا وائرس کی وبا سے قبل وہ روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آتے جاتے تھے۔
لیکن کورونا کے باعث چمن سے ملحقہ سرحد کی بندش کے سے جہاں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت بند ہوگئی تھی وہاں تاجروں اور محنت کش افراد کی آمد و رفت بند بھی ہوگئی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے دوطرفہ تجارت کو تو کھول دیا گیا لیکن مقامی تاجروں اور محنت کشوں کی آمد ورفت پر پابندی تاحال برقرار ہے۔
اس پابندی کے خلاف گزشتہ تین ہفتے سے ان افراد کا دھرنا جاری تھا لیکن اب انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان شاہراہ کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا ہے۔
شاہراہ کی بندش کی وجہ سے دونوں جانب افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، نیٹو سپلائی اور دوطرفہ تجارت کی مال بردار گاڑیوں کی آمد ورفت معطل ہوگئی ہے اور شاہراہ پر رکھی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے دونوں جانب گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔
چمن، کوئٹہ شہر سے شمال میں تقریباً 130کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے اور یہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، نیٹو سپلائی اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارتی گاڑیوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔
افغانستان کے علاوہ مال بردار گاڑیوں کی وسط ایشائی ریاستوں تک آمد ورفت بھی یہییں سے ہوتی ہے۔
چمن کے مقامی تاجروں اور محنت کشوں کا مطالبہ ہے کہ سرحد کو دو مارچ سے قبل والی پوزیشن کو بحال کیا جائے ورنہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں