صحافی جان محمد مہر کے قاتل88روز گذرنے کے بعد بھی گرفتار نہ ہو سکے

سکھر(آئی این پی) صحافی جان محمد مہر کے قاتل88روز گذرنے کے بعد بھی گرفتار نہ ہو سکے ، سکھر پریس کلب کے سامنے صحافیوں کا 87ویں روز بھی احتجاج جاری، نعریبازی ، بالا حکام سے نوٹس لیکر انصاف فراہمی کا مطالبہ ، تفصیلات کے مطابق سکھر کے سنیئر صحافی و نجی ٹی وی کے اینکر پرسن صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے ایس یو جے کے زیر اہتمام 88ویں روز بھی احتجاجی سلسلہ جاری رہا ، علامتی بھوک ہٹرتال کی قیادت ایس یو جے کے صدر امداد بوزدار نے کی جبکہ مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے طور پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی رہنما لالہ اسد پٹھا ن نے خصوصی طور پر شرکت کی دیگرصحافی رہنماﺅں میں ایس یو جے کے احقر رضوی ، سکھر پریس کلب کے، شہزاد تابانی ،سحرش کھوکھر، سلیم سہتو، سکھر فوٹو جرنلسٹ کے بخش علی ، نعیم غوری صحافیوں جلال الدین بھیو ،آصف ظہیر لودھی ،شوکت راہی ،انس گھانگھرو ، مجیب ورند ، اسلم دایو ، یار محمد سومر و، حسیب شیخ ، غفور شیخ ، راجہ شاہد ، سید جواد شاہ ، رضوان صدیقی ، بابر کھوکھرسمیت مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیلئے سیاسی ، سماجی ، تاجر برادری سمیت مختلف تنظیموں کے رہنماﺅں و نمائندگان نے شرکت کی ، اس موقع پر شرکاءنے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف شدید نعریبازی کی اور بالا حکام سے نوٹس لیکر قاتلوں کو گرفتارکر کے کیفر کردار تک پہنچانے کا پرزور مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں