چمن دھرنے کو 70 دن ہوگئے، حکومت رشوت کے بجائے ٹیکس نظام لاگو کرے، پشتونخوا میپ

ہونیوالے ہیں تمام کاروبار بند ہے اور ہزاروں لوگوں کے دھرنے کے جائز مطالبات تسلیم نہ کرنا دراصل صوبے میں پشتون پر رزق کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیورنڈ خط کے دونوں جانب واقع زمینوں اور تجارتی دوکانوں ، مارکیٹوں اور دیگر میں روز مرہ کی بنیاد پر پاسپورٹس پر آمد ناممکن ہیں اور اس کے علاوہ لوگوں کی تجارت میں رکاوٹیں اور رشوت خوری کی بجائے ٹیکس کا نظام لاگو کرنے اور ادا شدہ اشیاءکے ٹیکس رسید کو تمام ملک میں قبول کرنے کا انتظام ہو۔ بیا ن میں کہا گیا ہے کہ چمن دھرنے کے جائز مطالبات تسلیم کرنے میں تاخیری حربے افسوسناک ہیں اور پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ دھرنے کے تمام مطالبات تسلیم کیئے جائیں اور کاروبار کی بندش اور لوگوں کے ضروریات پورا کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں