کوئی پارٹی واضح اکثریت نہ لے سکی، الیکشن کمیشن انتخابی نتائج کا اعلان نہ کرسکا

جمعہ کی شام تک آنے کا امکان ہے۔عام انتخابات حلقہ قومی اسمبلی این اے 257کے رات گئے تک متعدد پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار محمداسلم بھوتانی اورمسلم لیگ (ن)کے جام کمال خان کے مابین کانٹے کا مقابلہ جاری تھا تاہم دریجی سمیت لسبیلہ اور آواان کے کئی دور دراز علاقوں سے نتائج موصول نہ ہوسکے تھے جبکہ رات گئے تک کی پوزیشن کے مطابق دونوں امیدوار ایک دوسرے کے قریب قریب تھے جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 21حب سے بی اے پی کے سردار محمد صالح بھوتانی پہلے جبکہ نیشنل پارٹی کے رجب علی رند دوسرے نمبر پر تھے، اس سلسلے میں گزشتہ روز منعقدہ عام انتخابات میں رات گئے قومی اسمبلی کی نشست این اے 257 کے 335 پولنگ اسٹیشنز میں سے 75 پولنگ کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار محمداسلم بھوتانی اور مسلم لیگ ن کے جام کمال خان ایک دوسرے کا تعاقب کررہے ہیںصوبائی اسمبلی کی نشست پی بی حب سے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق سردار محمدصالح بھوتانی 12133ووٹ لیکر پہلے نیشنل پارٹی کے رجب علی رند 5577 ووٹ لیکر دوسرے جبکہ پی پی کے علی حسن زہری 5553ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر تھے تاہم باقی پولنگ اسٹیشنز کے نتائج آنا باقی تھے۔ این اے 253 پر ہرنائی، کوہلو، سبی کی نشست پر جے ڈبلیو سی کے امیدوار نوابزدہ شاہ زین بگٹی کو اپنے حریف امیدوار رہنما پر برتری حاصل ہے۔ اطلاعےات کے مطابق خاران سے شعیب، نوشیروانی اور گوادر سے مولانا ہدایت اللہ کو برتری حاصل ہوگئی۔ کیچ ، جنرل الیکشن کے نتائج کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے اعلان میں تاخیر ، تاہم غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق صوبائی اسمبلی پی بی26کیچ2تربت سٹی کی نشست پر نیشنل پارٹی کے قائد ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو واضح برتری حاصل ہے جبکہ بی این پی کے امیدوار سیداحسان شاہ دوسرے نمبر پرہیں ، ڈاکٹر مالک بلوچ کو صلالہ بازار، سنگانی سر، شاہی تمپ ، چاہ سر ،ملک آباد، کوشک، دشتی بازار ، جوسک ، سری کہن ، تنزگ ، آبسر سمیت دیگر پولنگ اسٹیشنوں پربرتری حاصل ہے جبکہ سیداحسان شاہ کو گوکدان ، ڈنک، گھنہ ودیگر برتری کی اطلاع ہے جبکہ صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی 25کیچ1بلیدہ زامران ہوشاپ پر نیشنل پارٹی کے امیدوارجان محمدبلیدی اور پیپلزپارٹی کے امیدوار ظہور بلیدی کے درمیان سخت مقابلہ کی اطلاع ہے ، دونوں جانب کامیابی کے دعوے کئے جارہے ہیں ،صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی27کیچ3دشت مند نگور میں نیشنل پارٹی کے امیدوار لالا رشیددشتی ، بلوچستان نیشنل الائنس کے میجرجمیل احمددشتی، پیپلزپارٹی کے میر عبدالرﺅف رند کے درمیان مقابلہ ہے ، مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر مختلف امیدواروں کی برتری حاصل کرنے کے اطلاعات آرہے ہیں تاہم ابھی تک پورے حلقہ کے نتائج آنے باقی ہیں ، صوبائی اسمبلی حلقہ 28کیچ4پر نیشنل پارٹی کے میر حمل بلوچ اور پیپلزپارٹی کے امیدوار میر اصغررند کے درمیان مقابلہ ہے جبکہ آمدہ پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے اعتبار سے باپ کے اکبر آسکانی تیسرے نمبر پر آنے کی اطلاع ہے ، قومی اسمبلی 259کیچ گوادرپر نیشنل پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کیچ کے دونوں حلقوں سے پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار میریعقوب بزنجو نے کیچ سے دوسرے نمبر پر ووٹ حاصل کئے ہیں ۔ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ پی بی 10 ڈیرہ بگٹی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سرفراز بگٹی 41 ہزار ووٹ لے کر جیت گئے ہیں جبکہ گوہر رام بگٹی کو شکست ہوگئی۔ پی بی 40 کوئٹہ سے ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے قادر نائل 6 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ پی بی 9 کوہلو سے پیپلز پارٹی کے امیدوار میر نصیب اللہ مری کو گزین مرین پر سبقت حاصل ہوگئی ہے۔70 فیصد نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو کامیابی حاصل ہے جبکہ بلوچستان میں ملا جلا رجحان رہا۔ رات گئے 2024 کے انتخابات کے موصولہ ابتدائی نتائج کے جو ٹرینڈ سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ن لیگ 60 نشستوں پر لیڈ کر رہی ہے جبکہ پنجاب کے اکثر حلقوں میں ن لیگ کے امیدواروں کو تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں سے سخت مقابلہ کا سامنا ہے ، مکمل نتائج جمعہ کو سامنے آئیں گے جس کے بعد ہی یہ تعین ہوگا کہ کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوئی ہے ، راولپنڈی سے لے کر لاہور تک ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ۔ لاہور کی بیشتر نشستوں پر ن لیگ کو نشست ملی ہے جبکہ آخری اطلاعات تک این اے127پر بلاول کو ن لیگی امیدوار عطاءاللہ تارڑکے مقابلے میں شکست کا سامنا رہا ۔ لاہور سے میاں نوازشریف ، مریم نواز، سعد رفیق ، روحیل اصغر اور سردار ایاز صادق کو سخت مقابلے کا سامنا۔ سیالکوٹ حلقہ سے عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار اور خواجہ آصف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا۔ سندھ میں نتائج کے ٹرینڈ سے پتہ چلتا ہے کہ قومی اسمبلی کی 61 نشستوں میں سے 40 پر پیپلز پارٹی کو برتری حاصل تھی ۔ پیپلز پارٹی کے اہم رہنما آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کو اپنے حریفوں شیر محمد رند، مولانا راشد محمود سومرو اور ناصر محمود پر برتری حاصل تھی۔ سندھ صوبائی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے ۔ ادھر صوبہ پشتونخواہ میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار سبقت لئے ہوئے ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ میں مولانا فضل الرحمن اور علی امین گنڈا پورکے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا، پشتونخواہ کے صوبائی حلقوں میں ملا جلارزلٹ آیا ہے ۔ صوبہ بلوچستان میں عجیب وغریب صورتحال ہے ۔ دور دراز علاقے ہونے اور خراب موسم کی وجہ سے نتائج تاخیر سے آرہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقوں میں مولانا فضل الرحمن ، محمد خان اچکزئی، سردار اختر مینگل، سردار ثناءاللہ زہری، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نمایاں امیدوار تھے۔ بلوچستان کے نتائج جمعہ تک مکمل ہو جائیں گے ۔ اس طرح ملک بھر میں پارٹی پوزیشن واضح ہو جائے گی۔ این اے 18 ہری پور ہزارہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار عمر ایوب 76 ہزار ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ان کے مدقبائل ن لیگ کے امیدوار 41 ہزار ووٹ لیکر پیچھے رہے۔ این اے 10 بونیر سے تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر خان نے کامیابی حاصل کرلی ہے، ان کی لیڈ 36 ہزار تھی۔ انتخابی نتائج کے مطابق جہانگیر ترین کی جماعت استحکام پاکستان پارٹی اور پرویز خٹک کی پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کا مکمل صفایا ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں