پاکستان توڑنے کا فیصلہ یحییٰ خان کا تھا پورے ادارے کا نہیں، عمر ایوب

اسلام آباد (انتخاب نیوز) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ جو بھی آئین کو معطل یا ختم کرے وہ سنگین غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت صحیح جمہوریت کا فقدان ہے، اظہار رائے کی آزادی بہت کم ہے، سوشل میڈیا ایپ ایکس کو بند کیا گیا، میڈیا پر دباﺅ ہے۔ عمر ایوب نے کہاکہ 9 مئی کے حوالے سے آزاد جوڈیشل کمیشن ہونا چاہیے جسے تمام سی سی ٹی وی ویڈیوز تک رسائی ہو، سچ سامنے آنا چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ 9 مئی اور اوجڑی کیمپ پر جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے، آرمی پبلک اسکول کی انکوائری رپورٹ بھی سامنے آنی چاہیے، حمود الرحمان کمیشن اور ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹس بھی سامنے آنی چاہیے۔ عمر ایوب نے کہا کہ جب بینظیربھٹو کو قتل کیا گیا اس وقت پورے ملک میں تشدد ہوا، تشدد کے واقعات کی رقم 2 ارب ڈالر بنتی ہے، کراچی میں ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس وقت کوئی گرفتاری ہوئی؟ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کورکمانڈر ہاو¿س اور دیگر تنصیبات کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آنی چاہیے، 18مارچ 2023 کی جوڈیشل کمپلیکس کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی غائب ہے، یہ سارے ثبوت کون اٹھا کر لے جا رہا ہے، یہ تو جرم ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ 11 مارچ 1971 کو جنرل یحییٰ، شیخ مجیب سے جا کر ملے، شیخ مجیب الرحمان کے خلاف ملٹری آپریشن شروع کیا گیا، اس کے بعد ایک تاریخ ہے جس میں ملک دولخت ہوا، وہ فیصلہ یحییٰ خان کا فیصلہ تھا پورے ادارے کا نہیں۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ عدلیہ کھڑی ہوگئی ہے، ان ججوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی خوددار اور بہادر شخص ہیں، وہ خوف کے بت توڑنے کی بات کرتے ہیں، ہم یہاں خوف کے بت توڑ کر آئے ہیں، آگ کا دریا عبور کرکے آئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے آخری دم تک کھڑے رہیں گے، پنجاب اور وفاقی حکومت فارم 47 کی دیمک زدہ بیساکھی پر کھڑی ہے، لندن پلان عدم اعتماد سے شروع ہوا اور آج تک یہ کہانی چل رہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں