سانحہ بیسیمہ بس حادثہ نہیں ،جان بوجھ کر قتل کیا گیا ،انصاف فراہم کیا جائے،لواحقین
تربت(نمائندہ انتخاب)الابراز کمپنی پر پابندی لگاکر عوام اسکا بائیکاٹ کریں،انتظامیہ غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے جس سے حادثات روز کامعمول بن چکےہیں،لواحقین کیساتھ انصاف کیا جائے،بیسمیہ بس حادثے میں شہید وزخمی افراد کے لواحقین کی پریس کانفرنس تفصیلات کیمطابق 29مئی کو بیسیمہ میں پیش آنے والے بس حادثے میں شہید و زخمی افراد کے لواحقین نے سیاسی وسماجی تنظیموں کیساتھ تربت پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 29مئی کو بیسیمہ ضلع واشک کے مقام پر ایک افسوسناک بس واقعہ پیش آیا جہاں 29قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں یہ قدرتی حادثہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر قتل ہے۔ اس واقعے میں تربت یونیورسٹی کے دو پروفیسر شہید ہوئے،کیچ کے متحرک نوجوان سماجی جہدکار درویش عزیز بھی شامل انہی شہدا میں شامل تھا،جو ایک سماجی تنظیم چلاکر غریب وبے سہارا بچوں کو مفت تعلیم دے رہے تھے۔انہی میں سے ڈاکٹر ایوب بلوچ بھی شامل تھے جو بی آر سی تربت کے ملازم تھے جو اپنے معصوم بیٹے کیساتھ شہید ہوگئے۔جبکہ انکے علاوہ مکران میڈیکل کالج کے دو طالب علم بھی شامل تھے اور انکے علاوہ سندھ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسافر شامل تھے واقعے میں کئی مسافر زخمی ہوئے جن میں تربت ودیگر علاقوں کے زخمی شامل ہیں۔انہوں نے اپنے پریس کانفرنس میں ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس افسوسناک واقعہ کے بعد جب مسافروں کے لواحقین صبح الابراز ٹرانسپورٹ کے دفتر تربت میں جاتے ہیں تو وہ لاعلمی کا اظہار کرتاہے کہ ہمارا بس حادثے کاشکار نہیں ہوا ہے۔اس واقعے کے بعد خاندان اپنےپیاروں کی تعزیت میں بیٹھتے ہیں،یہاں چند لوگ آل پارٹیز اور سول سوسائٹی کے لوگ انتظامیہ کے پاس جاتے ہیں تو کمشنر مکران دکھاوا کیلئے ایک لیٹر جاری کرتے ہیں کہ اس واقعہ پر ایکشن لیا جائے مگر اس واقعے کا زمہ لینے اور مزید پیش رفت کیلئے کوئی قابل ذکر کردار نا انتظامیہ کی طرف ادا کی جاتی ہے اور نا یہاں کے عوام اور سیاسی وسماجی تنظیموں کی جانب سے کوئی مؤثر احتجاج اور اقدام اٹھائی جاتی ہے اور ناہی مذکورہ ٹرانسپورٹ کمپنی کیخلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔ضلعی انتظامیہ اخبار میں اشتہار جاری کرتے ہیں اور وقتی طورپر لواحقین وعوام کو دلا سہ دیکر کہتے ہیں کہ زخمیوں کو دو لاکھ اور جانبحق ہونے والوں کو چار لاکھ ملیں گے جو لواحقین کیساتھ ایک مزاق ہے۔اس حادثے کے بعدبھی مذکورہ بس کمپنی کا بس مسافروں کو کوئٹہ سے سوار کرتاہے تو آدھے راستے میں سوراب کے مقام پر بس خراب ہوتاہے جس سے یہ بات واضح ہیکہ ٹرانسپورٹرز لے پاس عوام کیلئے سفری سہولیات نہیں ہیں اور مذکورہ بس کمپنی اس قابل نہیں کہ اس پر سفرکیا جائے لہذا اس پر بندش ضروری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ واقعہ قدرتی حادثات نہیں بلکہ جان بوجھ کر ہمیں قتل کیا جارہاہے، کیونکہ ایک جانب سڑک نہ ہونے کے برابر ہیں ایک ٹریک سڑک ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے جبکہ دوسری جانب مسافر بس کمپنیوں کے بس انتہائی خستہ حال ہیں اور وہ انہی کٹارہ بسوں کے زریعے تیس مسافروں کی جگہ پینتالیس سے پچاس مسافروں کیساتھ ان مسافر بسوں کو بطور مال بردار گاڑی کے بھی استعمال کرتے ہیں جو مسافروں اور یہاں کی عوام کیساتھ انتہائی نا انصافی ہے۔اس واقعے کے بعد یہاں کی عوام ولواحقین منتظر تھے کہ اب ضلعی انتظامیہ نام نہاد ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب ضرور چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم شروع کیا جائےگا اور مسافر بسوں کو یوں نہیں چھوڑا جائےگا لیکن چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے اور ضلعی انتظامیہ وٹرانسپورٹ اتھارٹی اور بس کمپنیوں کی بے حسی ولاپرواہی کی وجہ سے ہم مزید سانحات کیلئے تیار ہوجائیں لہذا کسی اور سانحے سے بچنے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہم نے سانحہ بیسیمہ بس متاثرین کے نام سے تحریک کا آغاز کیاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے واقعات کا زمہ دار ضلعی انتظامیہ،بس کمپنیاں اور یونین اور ساتھ ساتھ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اور ادارے ہیں۔لہذا اس پریس کانفرنس کی توسط سے ہم سب سے پہلے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ بس کمپنی کیخلاف کارروائی کرے اور جو مسافر اس حادثے میں شہید وزخمی ہو چکے ہیں بس کمپنی کو پابند کرے کہ وہ تمام لواحقین کو ادا کرے۔ضلعی انتظامیہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو متحرک کرے اور وہ روزانہ تربت سے کراچی اور کوئٹہ جانے والی مسافر بسوں کی چیکنگ کرے کہ کیا وہ اس قابل ہیں کہ مسافروں کو لیجاسکیں یانہیں۔انہوں نے الابراز ٹرانسپورٹ کمپنی کو مکمل طورپر بند کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس واقعے میں جا ںبحق وشہید ہونے والوں کو معاوضہ دینے کابھی پابند ہے لہذا انتظامیہ اسے اس پر پابند کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات کی روک تھام کیلئے حکومت بسوں کی اسپیڈ مقرر کرے اور اسپیڈ بریکر لگائے تاکہ مسافر محفوظ رہ سکیں اور تیز رفتاری کا سلسلہ ختم ہوسکے،مسافر بردار بسوں کو بطور مال بردار اور تیل بردار بس استعمال کرنے والی بس کمپنیوں کو عوام کی جان ومال کیساتھ مزید کھیلنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔انہوں نے عوام کے نام بھی پیغام جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ بھی اپنی زمہ داریوں کو پورا کریں رضاکارانہ طورپر الا براز نامی بس کمپنی کا بائیکاٹ کریں تاکہ دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیاں سبق حاصل کرسکیں۔جبکہ سفر کے دوران مسافروں کیساتھ ہتک آمیز رویہ رکھنے والے ڈرائیور اور بس عملے کیخلاف آواز بلند کریں، دوران ڈرائیونگ موبائیل،نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے ڈرائیوروں اور بس عملہ کیخلاف سفر کے دوران احتجاج کریں.اور بس ڈرائیور کا ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کریں۔ہم امید کرتے ہیں کہ عوام کی جانب اس تحریک کو سپورٹ کیا جائےگا اور ہم اپنے مطالبات کی خاطر اور عوام کے جان ومال کو تحفظ دینے کیلئے مزید اقدامات کی طرف جائیں اور اگر مطالبات نہیں مانے گئے تو جلد احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے۔پریس کانفرنس شہید درویش کے لواحقین،شہید ڈاکٹر ایوب بلوچ کے لواحقین،پی ٹی سی ایل ملازم اور اس سانحے میں شہید ہونے والے محمد یوسف کے لواحقین،اسی طرح ماسٹر ولی محمد اور صابر علی کےلواحقین، سانحے میں زخمی محراب بلوچ شامل تھے،جبکہ پریس کانفرنس میں آل پارٹیز کیچ کے ڈپٹی کنوینئر کامریاد ظریف زدگ،نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر یونس جاوید،محمد طاھر بلوچ،نعیم عادل،سینئر سیاسی رہنماء خان محمدجان گچکی،جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولانا عبدالحفیظ مینگل، مرکزی جمعیت اہل حدیث کیچ کے رہنماء یلان زامرانی،کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر معروف وکیل روستم جان گچکی،تربت سول سوسائٹی کے ڈپٹی کنوینئر جمیل عمر ،ایس ایف اے کے ثناء اللہ دشتی،اتفاق ایمن،کامران گچکی،نوجوان سماجی ورکر شے حق بلوچ،سدھیر بلوچ،جلال غنی،صغیر ساگر،عمربلوچ، مول جان دشتی، حمید اللہ بلوچ شے عبدالحئی بلوچ،ودیگر موجود تھے۔


