چیف جسٹس نے قادیانیت نوازی کا ثبوت دیدیا، عدالت کا فیصلہ تسلیم نہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
ٹنڈو آدم (انتخاب نیوز) چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قادیانیت نوازی کا ثبوت دیدیا، قادیانیوں کو چار دیواری کے اندر توہین رسالت کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے جسے ہم تسلیم نہیں کرتے۔ چیف جسٹس کے فیصلے کو عاشقان رسول نے مسترد کردیا، ملک بھر میں یوم احتجاج، مساجد میں قراردیں منظور۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے رہنما مفتی محمد طاہر مکی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی جانب سے مبارک ثانی قادیانی فیصلہ میں کھلے عام قادیانیت نوازی کیخلاف کراچی، حیدرآباد، سکھر،دادو، جامشورو، ٹنڈوآدم، ملتان، لاھور، فیصل آباد، سمیت ملک بھرمیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، تنظیم تحفظ ناموس خاتم الانبیا پاکستان، جمعیت علما اسلام، اہلسنت والجماعت، جماعت اسلامی، جمعیت علما پاکستان کے رہنماﺅں پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا سید سلیمان بنوری، خواجہ عزیز احمد، مولانا عزیز الرحمان جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مفتی محمد طاھر مکی، مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، اسد اللہ بھٹو، ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، قاضی احسان احمد، مولانا تاج ناہیوں، رانا محمد انور، مولانا ابرار شریف، مفتی راشد مدنی، علامہ محمد راشد مدنی، حافظ عبدالرحمان الحذیفی، مولانا محفوظ الرحمان شمس، قاری محمد عارف شیخ ودیگر علما نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے مبارک ثانی قادیانی کے مقدمہ میں محفوظ شدہ سنائے گئے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ چیف جسٹس کے فیصلے نے قادیانیوں کو چار دیواری کے اندر توہین رسالت کرنے یا شعائر اسلام کی اجازت دیدی ہے جوکہ بالکل غیر آئینی ہے۔ علما نے کہا کہ جرم چھپ کر ہو تب، سر بازار ہو تب بھی جرم جرم ہی ہوتا ہے، اگر ایسا نہیں تو چور ہمیشہ چوری چھپ کر کرتا ہے پھر اسے سزا کیوں دیجاتی ہے؟ دیگر جرائم جو چار دیواری کے اندر ہوتے ہیں ان پرکیا اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے موجود نہیں؟ ملک بھر کے علما نے جمعہ کے اجتماعات اور احتجاجی مظاہروں سے خطاب میں کہا کہ قادیانی مسئلہ طے شدہ ہے اسے چھیڑ کر قاضی فائز عیسیٰ نے نیا محاذ کھول دیا، اب اس محاذ پر چھڑنےوالی قانونی جنگ قادیانیوں کو لے ڈوبے گی۔ علما کرام کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ چیف جسٹس فوری طور پر امت کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے 1993 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں یہ فیصلہ واپس لیں اور قادیانیوں کو مذہبی آزادی کے نام پر توہین رسالت الاﺅنس جاری کرنے کے بجائے انہیں آئین کا پابند بنائیں، مسلمانوں کے شعائر اندر اور باہر استعمال کرنے سے انہیں روکیں۔ مفتی محمد طاہر مکی نے کہا کہ تحریک چل پڑی ہے اکابرین کے اگلے لائحہ عمل کا پرامن عوام انتظار کریں۔


