عمران خان غیر مشروط معافی مانگیں، کوئی لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں، حکومت
اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی تو شیخ مجیب کو ہیرو مانتی تھی، ایک مجسمہ گرنے سے انہوں نے اپنا ایمان بدل لیا، کوئی سیاسی جماعت یا لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں ،پارلیمان ایک بالا دست ادارہ ہے، ان کو قانون سازی کا اختیار ہے اور اس نے ایک رول کو قانون بنایا ہے، اس کو تقویت بخشی، جو قانونی سقم پیدا ہوا ہے اس کا حل ضروری ہے، قانونی معاملات میں انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے،جماعت اسلامی کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملات آگے بڑھے ہیں، چاہتے ہیں بجلی کے بل کم ہوں ،بنگلہ دیش میں معاشی حالات کا مسئلہ نہیں تھا، تقسیم، نفرت اور کوٹہ سسٹم کا مسئلہ تھا، ہماری خواہش ہے بنگلہ دیش میں حالات معمول پر لوٹ آئیں۔بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ پر بات ہونی چاہیے کہ یہ قانون کس نظریے سے بنایا گیا ہے، مسلم لیگ (ن) کے رہنما بلال کیانی نے قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا، سینیٹ میں طلال چوہدری نے بل پیش کیا اور وہاں وہ کثرت رائے سے منظور ہوا اور قانون بن گیا۔عطاتارڑنے کہاکہ فلور کراسنگ کے حوالے سے آئین واضح ہے کہ یہ جائز نہیں ہے۔ مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ آج تک بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کبھی پرامن احتجاج نہیں کیا،سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ جب وہ 2014 میں آئے تو کیا وہ پرامن احتجاج تھا؟ کیا پولیس کو ڈنڈے نہیں مارے؟ پی ٹی وی کی نشریات بند نہیں کیں؟ کب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پرامن احتجاج کیا؟ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گفتگو پرامن نہیں ہوتی تو ان کا احتجاج کیا پرامن ہوگا؟انہوں نے کہا کہ ایک سال ہوگیا بانی پی ٹی آئی عمران خان نے باہر آنے کی تمام کوششیں کیں لیکن ناکام ہوئیں، بانی پی ٹی آئی کا بیان مایوسی، جھنجھلاہٹ اور دروازے بند ہونے کا اظہار ہے، ادارے بانی پی ٹی آئی سے کس بات پر معافی مانگیں؟۔مسلم لیگ (ن) کے رہنماءطلال چودھری نے عمران خان کو مشروط معافی کی بجائے غیر مشروط معافی مانگنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کبھی گریبان پکڑتے ہیں تو کبھی پاﺅں، اعتراف جرم کی بجائے ثبوت مانگنے والے کا بھانجااوربہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہاﺅس کے باہر موجود تھےں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مشروط معافی بارے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لیگی رہنماءرہنما طلال چودھری نے کہا کہ سانحہ 9 مئی کا اعتراف جرم کرنے والا اب ثبوت مانگ رہا ہے۔


