نیب نے شکنجہ کسنا شروع کر دیا
اداریہ
مسلم لیگ نون کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نوازسے نیب نے رائے ونڈ (لاہور) میں 100ایکڑ اراضی خریدنے کے لئے استعمال ہونے والی رقم کی تفصیلات طلب کر لی ہیں جبکہ نواز شریف کو بھی 100کنال اراضی کی خریداری کے مقدمے میں وارنٹ جاری کر دیئے ہیں۔اسی روز شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شریف پر بھی رمضان شوگر ملز کے لئے سرکاری خرچ پرایک نالہ تعمیر کرنے کے مقدمے میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔ لندن میں مسلم لیگ نون کے تاحیات صدر محمد نواز شریف کے لئے یہ اچھی اطلاعات نہیں ہوں گی۔ ان کی مشکلات میں بتدریج اضافہ ہونے لگا ہے۔اس کے علاوہ شہباز شریف کے داماد علی عمران کو کرپشن کے مقدمات میں انٹرپول کے ذریعے تحویل میں لینے کے لئے پاکستان نے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔اس معاملے میں دیر ہو سکتی ہے مگر علی عمران کے لئے لندن میں قیام آسان نہیں ہوگا۔ادھر پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر فردجرم عائد کرنے کے لئے نیب سرتوڑ کوشش کررہا ہے۔اس مقصد کے لئے عدالت نے ویڈیو لنک کا بندوبست کرنے کے احکام جاری کر رکھے ہیں مگر ہر پیشی پر ان کے وکیل ایک نئی درخواست دائر کرکے اسے مؤخرکرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔لیکن ایک ایک کرکے ان کے اعتراضات بھی عدالت کے سامنے آرہے ہیں۔ زیادہ دیر تک یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکے گا۔وکلاء کی فرد جرم عائد نہ ہونے کی لگاتار کوششوں سے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے نیب کے پاس موجود شواہد کو عدالت میں جھٹلانا آسان نہیں ہوگا۔اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ کل تک جن ٹی ٹیز کو رقم کی ترسیل کا محفوظ ترین ذریعہ سمجھ رہے تھے۔ وقت بدلتے ہی ان ٹی ٹیز نے ٹھوس شہادت کا مقام حاصل کر لیا ہے۔اسی دوران منی لانڈرنگ کے حوالے سے دنیا کارویہ بھی ماضی کے مقابلے میں مختلف ہوگیا ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے دباؤپر کی جانے والی قانون سازی سے بھی یہی اشارے ملتے ہیں کہ دنیا اپنی بعض دیدہ اور نادیدہ مشکلات کے باعث ناجائز ذرائع سے جمع کی جانے والی رقوم کی سرپرستی سے انکاری ہے۔اس ضمن میں ہر دوسرے دن نئی قانون سازی بلا جواز نہیں۔یاد رہے پانامہ لیکس پاکستان منظر عام پر نہیں لایا تھا۔پاکستانی سیاست دان اس تبدیل شدہ رویئے کی حدت اور شدت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔وہ اسی خیال میں گم رہے: ’نیب کی کیا مجال کہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے‘۔مگر عالمی ضرورت اور تقاضے تبدیل ہوتے چلے گئے۔ ادھر نیب کے چیئرمین کاعہدہ جسٹس(ر) جاوید اقبال کو دینا بھی دونوں پارٹیوں کی قیادت کو مہنگا پڑا۔موجودہ چیئرمین کی ساری زندگی عدالت میں گزری، اس لئے وہ دوسرے کسی بھی چیئرمین کی نسبت قانونی رموز سے زیادہ واقف ہیں۔نصف صدی سے زائد عدالتی تجربہ اپنی جگہ وزن رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نیب نے آنکھیں اٹھائیں اور ہر اس شخصیت کی جانب دیکھنا شروع کر دیا جسے کل تک یقین تھا نیب ان کی طرف کبھی نہیں دیکھے گا۔بینک دستاویزات سے بڑی گواہی نہیں ہو سکتی۔ایک لمحے کے لئے مان لیا جائے کہ یہ رقوم کسی فالودے والے نے غلطی سے کسی معروف سیاست دان کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی،لیکن سیاست دان تو جانتے تھے یہ رقم انہوں نے جمع نہیں کرائی،ملک کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہ نے والے سیاست دان عدالت کے روبرو اپنی بے خبری کا دعویٰ نہیں کر سکیں گے۔یہ بات ان کے وکلاء کے علم میں ہے،یہی وجہ ہے کہ وہ ہر موقعے پر کوئی نیا جواز سامنے لا کر فرد جرم عائد ہونے کا عمل مؤخر کرانے کے لئے اپنی تمام قانونی صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں اگر استغاثہ نے دانستہ کوئی بڑا سقم نہ رہنے دیا تو فیصلہ نیب کے حق میں آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔جعلی بینک اکاؤنٹ کتنی بھی مہارت سے چلایا جائے، غیرقانونی شناخت ختم نہیں ہوتی۔
ویسے بھی تاریخ شاہد ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتاکہ کسی لمحے پسیج جائے۔سیاستدان خود کہتے اور مانتے ہیں سیاست میں دوستی اور دشمنی عارضی ہوتی ہے۔ امریکا ببانگ دہل اقرار کرتا ہے کہ اسے اپنے مفادات عزیز ہیں وہ دوستیاں نہیں پالتا۔ یہی حال عرب ممالک کا ہے، کشمیر اور فلسطین کے معاملے میں ان کی مسلسل خاموشی اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ انہیں اپنے کاروباری مفادات عزیز ہیں۔ اسلامی رشتہ ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان ملائیشیا میں اپنی بلائی ہوئی کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکاوجوہات سے سب واقف ہیں۔جو قرض دیتا ہے،اپنی بات منوا لیتا ہے۔ مقروض ملک کی اپنی کوئی پالیسی نہیں ہوتی۔دانا سیاست دان انتہائی ہوشیاری اور رازداری سے منزل کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔ اس کوشش میں انہیں پھانسی کے پھندے کو بھی چومنا پڑتا ہے۔افسوسناک سچائی یہ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد سوئے دار جانے والے سیاست دان عنقا ہو گئے۔شہید کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹونے بہادری سے اپنے والد کی راہ پر چلنا پسند کیا مفاد پرستوں نے لیاقت باغ راولپنڈی میں انہیں بھی شہید کر دیا۔ پی پی پی کے کارکن اگر برملا نہیں تو دبے لفظوں یہی کہتے سنائی دیتے ہیں:”کاش پی پی پی کی قیادت اپنے بانی شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے منشور پر عمل کرتی عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتی زر و جواہر کے سامنے سجدہ ریز نہ ہوتی۔ا سے آج اس قدربے بسی اور بے چارگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا“۔بلاول بھٹو زرداری کو ناکردہ گناہوں کی سزا ملے گی۔


