ماحولیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج

اداریہ
مائیکروسارٹ کمپنی کے بانی ارب پتی امریکی بل گیٹس نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی انسانیت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے، آئندہ 40 سال میں زمین پر درجہ حرارت بڑھنے سے اموات کا تناسب 5گنابڑھ جائے گااور یہ کورونا سے بڑا چیلنج ہوگا۔بل گیٹس کا کہنا ہے کہ انسانیت کے پاس زیادہ وقت نہیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ترقی پذیر ممالک کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔نصابی کتب میں بھی طلباء کو پڑھایا جاتا ہے قدرت نے فضا میں اوزون گیس کا ایک غلاف زمین کے گرد بنا رکھا ہے یہ غلاف سورج کی مضر صحت شعاؤں کو جذب کرلیتاہے اور زمین تک نہیں پہنچنے دیتا۔لیکن بے تحاشہ صنعتی ترقی کے نتیجے میں ایسی گیسز کا اخراج بھی بڑھنے لگا جو دھیرے دھیرے اوزون کی کی حفاظتی تہہ کی موٹائی میں کمی کا سبب بن گیا۔ اوزون کی حفاظتی تہہ میں کمی کا اثر یہ ہوا کہ سورج کی مضر صحت شعائیں زمین تک پہنچنا شروع ہو گئیں۔اس کے نتیجے میں قدرت کا درجہ حرارت کو خاص حد تک برقرار رکھنے والا سسٹم کمزور ہوگیا اور زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔اسے عام زبان میں ’گلوبل وارمنگ‘ کہا جاتا ہے۔بل گیٹس نے اس خطرے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے۔بل گیٹس نے اپنی دولت کا بڑا حصہ انسانوں کی فلاح پر خرچ کرنے کے لئے مختص کر دیا ہے۔لیکن قدرت کے حفاظتی نظام کی بحالی کا کام دنیا کا کوئی شخص یا ادارہ یا ملک تنہا نہیں کرسکتا۔اس بگاڑ کو پیدا کرنے میں ساری دنیا صدیوں سے دن رات مصروف رہی اور تا حال یہ نقصان دہ معاشرتی رویہ جاری ہے۔بڑے بڑے صنعتی کارخانوں کی چمنیوں سے خارج ہونے والا دھواں ہو یا بسوں، کاروں اور موٹر سائیکلوں سے خارج ہونے والی گیسز ہوں، اپنی اپنی جگہ سب اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اور نتیجے میں زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات ہر پاکستانی جانتا ہے کہ چند دہائیاں پہلے شہر اتنے بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے نہیں تھے۔زمین کا بڑا حصہ اپنی قدرتی حالت میں موجود تھا۔لوگ کھیتی باڑی کرتے یا باغبانی کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے تھے۔جیسے جیسے صنعتوں کا جال وسیع ہوا ان کارخانوں کو چلانے والے مزدور اور ہنر مند بھی دیہاتوں سے شہروں میں منتقل ہوتے چلے گئے۔اس انتقال آبادی کے نتیجے میں شہروں کی تعداد اور رقبے میں تیزی سے قدرت کی فراہم کردہ زمین کو کنکریٹ اور سریا کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا۔دریاؤں کے کنارے سے ریتی اور بجری کا اندھا دھند انخلاء پانی کی قدرتی گزرگاہ کو بلندی سے نیچائی کی طرف لے گیا۔کنووں میں پانی کی سطح بھی گرتی چلی گئی۔زمین پر مکانات، پختہ سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر نے پانی کی زمین میں جذب ہونے کی مقدار کم کردی ہے۔دوسری طرف جنگلات کے درخت بیدردی سے کاٹے گئے تاکہ تعمیراتی ضرورت پوری کی جا سکے لیکن اس کٹاؤ سے ہونے والی درختوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ یہ عمل صرف پاکستان میں نہیں جاری رہا بلکہ دنیا کے تمام ممالک صنعتی ترقی کی اس اندھی دوڑ میں دوسروں سے آگے نظر آئے۔اور آج نوبت یہ آ گئی ہے کہ زمینی درجہئ حرارت بڑھنے سے زندگی کی بقاء کے لئے پانی فراہم کرنے والے گلیشئرز بھی تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ پانی کی شدید قلت کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے۔ صنعتوں کا فضلہ بھی دریاؤں اور سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے۔اس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جو آبی حیات کے خاتمہ کا سبب بن رہا ہے۔اس کا نقصان غذائی قلت کی صورت میں انسان کو ہی برداشت کرنا ہے۔زیر زمین پانی بھی آلودہ ہورہا ہے۔منرل واٹر کے نام پر زمین سے پانی نکال کر زمین کو بنجر بنانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔سپریم کورٹ نے ماضی قریب میں اس انسانیت دشمن عمل کو روکنے کے لئے فریقین کو طلب کیا تو بھاری فیسیں وصول کرنے والے معروف وکلاء ملزمان کی صفائی پیش کرتے نظر آئے۔
بل گیٹس نے ارب پتی بننے کے لئے منشیات فروشی کو سہارا نہیں بنایاانہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنی ذہانت سے کاروباری سہولتیں فراہم کرکے یہ دولت کمائی اور پھر اسے انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انسانیت کو کورونا سے بھی بڑے ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامنا ہے تو اس وارننگ کو درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے۔پاکستان نے اس سمت پیش قدمی شروع کردی ہے۔شجر کاری کے ذریعے انتہائی کم وقت میں بہت کام کیا جا سکتا ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لاگانے کے منصوبے پر کام کرنے کے بعد اب پورے ملک میں 10ارب درخت لگانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔جاپان سے درآمد کردہ پودوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ دوسرے پودوں کی نسبت 30فیصد زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ گزشتہ روز 35لاکھ پودے لگا کر اس منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔عوام بھی اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔چند دہائی قبل ہر گھر میں (کچی بستیوں سمیت) درخت لگائے جاتے تھے۔ٹاؤن پلاننگ میں انسانی آبادی کے تناسب سے درخت لگانا لازم ہے۔ اس شرط پر عمل کرایا جائے۔اب دیکھنا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو کرپشن سے بچانے کے لئے کیا اقدامات کرتی ہے؟ اس لئے کہ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بعض کمزوریوں کا اعتراف صوبائی وزراء کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں