سندھ حکومت کو وفاق پیسے نہیں دے رہا، اب ورلڈ بینک کے ساتھ مل کر انفرااسٹرکچر کو بہتر بنارہے ہیں، بلاول بھٹوزرداری

کراچی:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ سندھ حکومت کو وفاق پیسے نہیں دے رہا، اب ورلڈ بینک کے ساتھ مل کر انفرااسٹرکچر کو بہتر بنارہے ہیں، پیپلز اسکوائر کراچی کے عوام کے لیے تفریح کا بہترین ذریعہ ہے، پیپلز اسکوائر سے شہریوں کو بھرپور فائدہ ہوگا، ملیر میں نیبرہڈ منصوبے کا 30 ستمبر کو افتتاح کریں گے۔ شہر میں فن تعمیر کا شاہکار پرانی عمارتوں کو بھی بحال کریں گے،یہ منصوبہ عالمی بینک کے اشتراک سے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا، منصوبے کو دی پیپلز اسکوائر کا نام دیا گیا ہے، ان کی پارٹی نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی ہے،پیپلزاسکوائر کے طرز پر جگہ جگہ منصوبے بناکرکراچی کی عوام کے مسائل کم کریں گے، 18ویں ترمیم کی بدولت صوبوں کو مالی اختیارات تفویض کیے گئے جس کی وجہ سے سندھ ریونیو بورڈ ایک مستحکم ٹیکس جمع کرنے کا ادارہ بنا، صوبے کے ہر ضلع میں اس طرح کے پیپلز اسکوائر تعمیر کریں گے، سندھ حکومت نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، سندھ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالوں نے کراچی میں امن بحال کیا، امن بحال ہونے میں شہریوں اور پولیس کا خون شامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدٹائون میں واقع سندھ سیکرٹریٹ کے قریب پیپلزاسکوائرکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزرا ، سعید غنی ، سید ناصر شاہ ، مشیر مرتضی وہاب ، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، صوبائی سکر یٹریز نے بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ ورلڈ بینک گروپ کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر ناجے بین ایسن اور اسلام آباد اور واشنگٹن ڈی سی کے نمائندوں نے آن لائن تقریب میں شرکت کی۔ بلاول بھٹوزرداری نے یوم آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ آج ہم کراچی میں خصوصی یوم آزادی منارہے ہیں اورمنصوبوں کا افتتاح کررہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ منصوبہ کراچی اور کراچی کی گورننس، عوام کے مسائل میں کمی لیے ایک انقلاب کی شروعات ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عوام کے مسائل کی طرف توجہ دی ہے اور ہماری مسلسل شکایت ہے کہ ہمارے صوبے بلکہ پوری صوبائی حکومتوں کو این ایف سی اوراٹھارویں ترمیم کے بعد ان کا حق نہیں دیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے وسائل کی کمی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں جب بھی موقع ملا تو اپنے حق کے لیے جدوجہد کریں گے لیکن اپنے کم وسائل میں دوسرے کام نکال رہے، عوام کے مسائل کا حل پھر بھی نکالتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس منصوبے میں ورلڈ بینک سے قرض لیا ہے لیکن وفاقی حکومت سے نہیں ملا، ہم ورلڈ بینک کے ساتھ مل کر خاص کر عوامی مقامات پر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کام کا منصوبہ ہے اور یہ سب سے پہلا عوامی مقام اور پیپلز اسکوائر بنایا ہے، عوامی مقامات ہر معاشرے کے لیے ضروری ہے اور دنیا میں بڑے شہروں میں عوامی مقامات کا استعمال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بھی کراچی کے عوام کے لیے دستیاب ہوگا اور نیچے پارکنگ کی سہولت ہے، سندھ سیکرٹریٹ میں صوبے بھر سے عوام آتے ہیں، نزدیک کالج، جامعات اور ثقافتی مرکز آرٹس کونسل بھی ساتھ ہے۔انہوں نے کہاکہ سیوریج، اسٹوریج اور یوٹیلٹی نظام کو زیرزمین کیا ہے اور اس سے یہاں کے عوام کو فائدہ ہوگا اور یہ مون سون کے سیزن میں سود مند ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزاسکوائر طلبہ، کلچرل کمیونٹی اور سرکاری ملازمین کے لیے ایک مرکز ہوگا اور پورے کراچی میں اس بنیاد پر بہتری کی جانب لے جائیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ منصوبہ ہمارا پہلا مرحلہ ہے، ملیر میں بھی منصوبے چلارہے ہیں اور 30 ستمبر سے منصوبے پر کام شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملیر میں منصوبے پر کام ہوگا اور ابراہیم حیدری میں بھی سیوریج اور یوٹیلیٹی نظام کو سڑکوں کے نیچے بنائیں گے تاکہ عوام کے لیے سہولت ہو۔انہوں نے کہاکہ یہ منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے، اس کے بعد دوسرے مرحلے میں سندھ حکومت ورلڈ بینک کے ساتھ دوسرے علاقوں میں بھی کام کرے گی۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ ہم اولڈ سٹی ایریا میں بھی کام کریں گے اور جو پارکس ہیں وہاں بھی یہ تصور لے کر آئیں اورآرام باغ کی مسجدکی بھی تعمیر نو کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کھارادر میں وزیرمینشن میں جہاں قائد اعظم محمد علی جناح پیدا ہوئے تھے ، وہاں بھی اسی طرح کا منصوبہ شروع کریں گے اور پورے کراچی میں سیوریج اور دیگر نظام کو زیرزمین لے کر جائیں گے تاکہ تاریخی مقامات کا تحفظ ہوگا اور عوام کے مسائل کو کم کریں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا کراچی سے رشتہ بہت پرانا ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایس ایم لا کالج میں قانون پڑھاتے تھے، لیاری کے ککری گرائونڈ میں نوجوانوں کے لیے سہولتیں فراہم کریں گے، جہاں شہید بینظیر بھٹو اورآصف زرداری کی شادی کی تقریب ہوئی تھی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایس آر بی نے اپنے وصولی کے ہدف کو حاصل کرلیا ہے مگر ایف بی آر اپنے ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے ، جس کے نتیجے میں صوبائی حکومتیں بشمول سندھ کو محصولات کی مد میں اپنے متفقہ حصے میں ایک بڑے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی وہ شہر تھا جہاں بے گناہ لوگوں کا قتل ہوتاتھا ۔بین الاقوامی مافیا ملوث تھی اور مقامی ٹھگ ان کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے آمر نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جب سندھ میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو اس نے مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا اور شہر میں امن بحال کیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی کی حکومت کراچی اور اس کے لوگوں کے مسائل حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے تمام وعدے پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں لیکن حکومت سندھ اس شہر کے لوگوں کی خدمت کرے گی۔اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی نیبربرڈ امپرومنٹ پروجیکٹ ان کی حکومت نے ورلڈ بینک گروپ کے اشتراک سے بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے شہر کو مزید بہتر ، مسابقتی اور جامع میگاسٹی میں تبدیل کرنے کے لئے 10.260 ارب روپے کی لاگت سے تین کمپونیٹس پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اس منصوبے میں پبلک مقامات میں اضافے اور منتخب اطراف کے علاقوں میں نقل و حرکت میں بہتری ، انتظامی خدمات میں معاونت ، شہر کی صلاحیت میں اضافہ اور آمدو رفت اور تکنیکی مدد کے اجزا شامل ہیں۔وزیراعلی سندھ کے مطابق صدر ایریا میں سوک ، تعلیم ، ثقافتی اور تجارتی سرگرمیاں اور روز مرہ دیکھنے والوں کی کثیر تعداد میں کثافت ہے۔ صدر ایریا میں ذیلی منصوبوں میں موجودہ سڑکوں اور گلیوں ، فٹ پاتھوں ، پیدل چلنے والوں کی جگہ کو اپ گریڈ کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلے مقامات کی اپ گریڈیشن ،شیڈ فیچرز کی تنصیب، سائن، اسٹریٹ فرنیچرز ، لائٹنگ اور ٹریفک پیٹرن کو دوبارہ منظم کرنا شامل ہے ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کے این آئی پی کی صدر میں پیڈسٹرین ٹریل بنانا شامل ہے جس سے ٹریفک کی آمدورفت میں بہتری آئے گی اور آرٹس کونسل میں آنے والے لوگوں اور کالجوں میں آنے والے طلبا کے لئے کھلی جگہ پیازا مہیا ہوگی۔ایک ذیلی منصوبے میں صدر ڈاون ٹان ایریا میں تعلیمی اور ثقافتی زون کی دوبارہ ترقی بھی شامل ہے ، جس سے عوامی مقامات میں اضافہ ہوگا اور ڈاکٹر ضیاالدین روڈ ، دین محمد وفائی روڈ اور ایم آر کیانی روڈ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ نقل و حرکت کو بہتر بنائیں گے۔ صدر ڈاون ٹاون کے مصروف علاقے میں ٹریفک کو پرسکون اور رواں رکھنے کے لیے دو سطحی انڈر گرانڈ پارکنگ کی جگہ جس میں 350 سے زیادہ کاروں اور 250 موٹر بائکس کی پارکنگ کی سہولت فراہم ہوگی۔ ٹاپ لیول پیازا میں کھانے پینے کے اسٹالز ، اسٹریٹ لائٹنگ اور فرنیچر ہوگا تاکہ آس پاس کے علاقے کو خوبصورت بنایا جاسکے، جس میں ایس ایم آرٹس اور لا کالج ، ڈی جے سائنس ، ایس ایم کامرس کالج ، N.E.D یونیورسٹی ، آرٹس کونسل آف پاکستان کا ثقافتی مرکز اور لینڈ مارک برنس گارڈن جوکہ صدر ڈاون ٹان ایریا میں تعلیمی اور ثقافتی زون کی حیثیت رکھتا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صدر میں ایجوکیشنل اینڈ کلچرل زون کو ترقی دینے کے علاوہ کے این آئی پی ملیر اور کورنگی ایریا میں روڈ نیٹ ورک میں بہتری لا رہی ہے اور اس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تعمیراتی اجازت نامے کے لئے آٹو میشن کے لئے ون ونڈو سہولت کے لئے مالی اعانت فراہم کی ہے تاکہ سندھ میں جوکاروبار کررہے ہیں ان کے لیے آسانی پیدا ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعہ کاروبار کو سہل بنانے کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی میں اضافہ ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں