ایرانی میزائلوںسے اسرائیل کو بہت نقصان پہنچا، تہران کے پاس تیل اور ذہین لوگ ہیں وہ دوبارہ اُبھر سکتے ہیں، ٹرمپ

ویب ڈیسک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جلد روس اور یوکرین کا تنازع بھی حل کرا دیں گے، ممکنہ طور پر پیوٹن کے کے یوکرین سے آگے کے علاقائی عزائم ہیں، امن کے لیے جو کچھ ہوسکتا تھا، ہم نے کیا، امریکی حملے کی وجہ سے ایران-اسرائیل جنگ بندی ممکن ہوئی، مجھے نہیں لگتا کہ ان دونوں ملکوں کی دوبارہ جنگ نہیں ہوگی۔دی ہیگ میں نیٹو سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں فردو جوہری سائٹ مکمل تباہ ہوچکی، جوہری تنصیبات صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں، ایران سے اگلے ہفتے بات کرنے جارہے ہیں، تاہم ایران سے معاہدہ کرنا کوئی ضروری نہیں، قطر میں امریکی اڈے پر فائر کئے گئے 14ایرانی میزائل تباہ کیے گئے، امریکا کے پاس دنیا کا بہترین جنگی سازوسامان ہے۔دوسری جانب ٹرمپ، نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ نیدرلینڈز میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوسرے روز پریس کانفرنس میں سوالات کے جواب دے رہے تھے۔صحافی نے ان سے پوچھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان پر آپ کا کیا ردِعمل ہے کہ وہ اب بھی جوہری مواد کی افزودگی کرنا چاہتے ہیں؟ٹرمپ کا کہنا تھا ’مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے واقعی ایسا کہا ہے یا نہیں۔ لیکن اس وقت وہ کسی چیز کی افزودگی نہیں کرنا چاہتے۔ وہ خود کو سنبھالنا چاہتے ہیں اور ہم انھیں ایسا نہیں کرنے دیں گے، دفاعی حوالے سے ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔‘’میرا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارا کچھ نہ کچھ تعلق قائم ہو جائے گا۔ پچھلے چار دنوں میں انھوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ یہ ایک بالکل متوازن معاہدہ تھا۔ دونوں نے کہا کہ بس اب بہت ہو گیا۔‘ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’نہیں، وہ جوہری مواد کی افزودگی نہیں کریں گے۔ ان کی ایسی کوئی نیت نہیں ہے۔ ذرا تصور کریں کہ یہ سب کچھ ہونے کے بعد وہ کہیں ’چلو اب بم بناتے ہیں؟‘ وہ بم نہیں بنائیں گے اور نہ ہی کچھ افزودہ کریں گے۔‘’ہمیں یقین ہے کہ سب کچھ وہیں نیچے ہے۔ اسے نکالنا بہت مشکل اور خطرناک ہے۔ یہ ایسا نہیں جیسے قالین اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھ دیا جائے۔‘ان کا کہنا تھا ’ہم نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ سب کے لیے ایک فتح تھی، ایران کے لیے بھی۔ ان کے پاس تیل ہے، وہ ذہین لوگ ہیں اور وہ دوبارہ اُبھر سکتے ہیں۔‘ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کو بہت سخت نقصان پہنچا، خاص طور پر پچھلے کچھ دنوں میں۔ بیلسٹک میزائلوں نے بہت سی عمارتیں تباہ کر دیں۔ بنیامین نیتن یاہو کو خود پر فخر ہونا چاہیے۔ لیکن ایران اب طویل عرصے تک بم نہیں بنائے گا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں