ہم جنگ جیت چکے ہیں اب خطے میں امن جیتنا چاہتے ہیں، بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے، شہباز شریف

ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم بھارت سے جنگ جیت چکے ہیں، اب ہم امن کے خواہاں ہیں، اور پاکستان، تمام حل طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انتونیوگوتریس نے مشکل ترین حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کی۔انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا ا?ج ہمیشہ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے، عالمی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے، انسانی بحران بڑھتے چلے جارہے ہیں، دہشت گردی ہنوز ایک بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے، فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مجید بریگیڈ افغانستان کی سرحد کو استعمال کر کے افغان علاقوں سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہی اور پاکستان پر حملے کر رہی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ نیو یارک یا لندن میں دہشت گردی پاکستان میں دہشت گردی ہے، بھارتی ہندواتوا پالیسی خطے کے لیے خطرناک ہے۔

انہوں کہا کہ ڈس انفارمیشن ایک فیک نیوز اعتماد اور یقین کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں ، موسمی تبدیلیاں ہماری بقا کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آ ج ملٹی لیٹرل ازم ایک آپشن نہیں رہا بلکہ یہ وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قائد اعظم محمد علی جناح کے وڑن مطابق امن، باہمی احترام، اور تعاون پر مبنی ہے، ہم مذاکرات اور سفاری کاری کے ذریعے تنازعات کے پ±رامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشہ سال میں نے اسی فورم پر خبردار کیا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا ، مشرقی سرحد سے بلااشتعال جارحیت کی گئی اور پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پہلگام کے واقعے پر ہماری شفاف اور غیرجانبدارانہ عالمی تحقیقات کی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے ایک انسانی المیے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور ہمارے شہروں پر حملہ کردیا اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری علاقائی خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی کی گئی تو ہمارا جواب اقوام متحدہ کے چارٹر کے ارٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع میں تھا،ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شاندار قیادت میں حیرت انگیز پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور فہم و فراست کے ساتھ ایک آپریشن کیا۔انہوں نے کہا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں ہمارے شاہین فضا میں بلند ہوئے اور آسمانوں پر اپنا جواب ثبت کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت کے سات طیارے ملبے اور دھول میں بدل گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ برتری کے باوجود پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی، صدر ٹرمپ کی امن کے لیے کوششوں نے جنوبی ایشیا میں جنگ کو ٹالنے میں مدد کی۔ اگر انہوں نے بروقت اور فیصلہ کن مداخلت نہ کی ہوتی تو ایک مکمل جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں امریکی صدر کی امن کی ترویج کے لیے غیرمعمولی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نام زد کیا اور یہ وہ کم سے کم قدم ہے جو ہم ان ( ٹرمپ ) کی امن سے محبت کے لیے کرسکتے تھے۔

شہباز شریف نے کہا ہم اس اہم وقت میں پاکستان کی سفارتی مدد پر اپنے دوستوں، چین، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ایران، قطر، ا?ذربائیجان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مشکور ہیں۔وزیراعظم نے کہا ہم جنگ جیت چکے ہیں اور اب ہم اپنے خطے میں امن جیتنا چاہتے ہیں، اور میں اس فورم پر اپنی یہ پیشکش دہرانا چاہتا ہوں کہ پاکستان تمام حل طلب معاملات پر بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے،وزیراعظم شہباز نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا کو ’ اشتعال انگیز کے بجائے فعال قیادت‘ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوشش نہ صرف خود معاہدے کی شقوں کے منافی ے بلکہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ ہم اپنے 24 کروڑ عوام کے ان پانیوں پر حق کا ضرور اور پ±رجوش دفاع کریں گے۔وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ایک دن بھارت کا ظلم و ستم وادی میں مکمل طور پر رک جائے گا اور کشمیر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ایک غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے بنیادی حقِ خودارادیت حاصل کرے گا۔غزہ کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی حالتِ زار ہمارے دور کے سب سے دل دہلا دینے والے المیوں میں سے ایک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں