کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر اصولی اتفاق، جلد دستخط ہوجائیں گے، احسن اقبال
ویب ڈیسک : جیو نیوز کے پروگرام اج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھاکہ وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھیجی تھی، کمیٹی کے مذاکرات ہوئے ہیں۔آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر اصولی اتفاق رائے کرلیا ہے، اس وقت معاہدے کے مسودے پر دونوں اطراف سے غورکیا جارہا ہے اور جلد معاہدے پردستخط ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت ایسی صورتحال سے بچ گئے ہیں جہاں پاکستان کے بد خواہ بد امنی اور عدم استحکام چاہتے تھے، یہ جیت پاکستان اورآزاد کمشیرکے عوام اورجمہوریت کی ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھاکہ وزیرامورکشمیرکی نگرانی میں ایک مستقل کمیٹی بنائی ہے، کمیٹی کا ہرپندرہ 15 دن میں اجلاس ہوگا، مطالبات پر عمل درامد کا جائزہ لیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے مزید بتایاکہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق ایک ائینی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، ائینی ماہرین کی کمیٹی تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی اور کمیٹی کے جائزے کے بعد جو فیصلہ کیا جائے گا وہ سب کو قبول ہوگا، یہ ائینی معاملہ ہے اس میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔
دوسر ی جانب پاکستان نے آزاد کشمیر پر بھارتی پروپیگنڈا مسترد کردیا، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر پر بلاجواز الزام تراشی کرنے کے بجائے بھارت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے۔وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام اپنے شہری اور سیاسی حقوق آزادانہ طور پر استعمال کرتے ہیں اور اپنے جمہوری مستقبل کی تشکیل میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ان کے وقار کے تحفظ، ان کے حقوق کے دفاع — بشمول پ±رامن اجتماع اور احتجاج کے حق — ان کے جذبات کے احترام اور ان کی سماجی و معاشی ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ عزم نہ صرف ہماری آئینی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اہلِ جموں و کشمیر کے ساتھ ہمارے دیرینہ اخلاقی فرض کو بھی اجاگر کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس کے برعکس، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہمارے بھائی اور بہنیں اب بھی قبضے کے سائے تلے ایک سنگین حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔طاقت کے بے دریغ استعمال، بنیادی آزادیوں کی نفی، اور انسانی حقوق کی منظم اور سنگین پامالیاں، معصوم کشمیری عوام کے خلاف بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی پہچان بن چکی ہیں، تاکہ ان کی جائز جدوجہد کو دبایا جا سکے۔ اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں، آبادیاتی ساخت میں تبدیلی، اور شہری آزادیوں سے انکار، صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر پر بلاجواز الزام تراشی کرنے کے بجائے بھارت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے۔وزارت خارجہ نےمزید کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق، خاص طور پر ان کے بنیادی حقِ خودارادیت کا احترام کرنا چاہیے، جیسا کہ متعلقہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کا راستہ کشمیر کے مسئلے کے حل سے ہی گزرتا ہے۔


