اگر حماس امن معاہدے کی خلاف ورزی کرے گی تو مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک اسے سیدھا کرنے کے لیے تیار ہیں، ٹرمپ

ویب ڈیسک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حماس کو دھمکاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کرے گی تو مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک بڑی فوجی قوت کے ساتھ غزہ میں داخل ہوکر اسے ’ سیدھا کرنے’ کے لیے تیار ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ’ ہمارے اب بہت عظیم اتحادی ممالک — جو مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں واقع ہیں — نے صاف، زبردست اور پ±رجوش انداز میں مجھے بتایا ہے کہ اگر حماس ہمارے ساتھ کیے گئے اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ب±را برتاو¿ جاری رکھتی ہے،اور اگر میں درخواست کروں تو وہ غزہ میں ایک بڑی فوجی قوت کے ساتھ داخل ہو کر ’ حماس کو سیدھا کرنے’ کے لیے تیار ہیں۔’انہوں نے مزید لکھا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے جو محبت اور جذبہ آج نظر آ رہا ہے، وہ ہزار سال سے نہیں دیکھا گیا! یہ ایک نہایت خوبصورت منظر ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ان ممالک اور اسرائیل سے کہا ہے کہ ’ ابھی نہیں!’ ابھی بھی امید باقی ہے کہ حماس درست راستہ اختیار کرے گی۔ اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو حماس کا خاتمہ تیز، شدید اور بےرحمانہ ہوگا!امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مدد کے لیے فون کیا۔انہوں نے کہا کہ میں عظیم اور طاقتور ملک انڈونیشیا اور اس کے شاندار رہنما کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے لیے جو تعاون اور مدد فراہم کی ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔خیال رہے کہ ٹرمپ نے گذشتہ روز بھی کہا تھا کہ حماس کو غزہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا جائے گا اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی تو اسے ’ ختم’ کر دیا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز کی میزبانی کے دوران صحافیوں سے کہا کہ ’ہم نے حماس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے کہ وہ بہت اچھا برتاو¿ کریں گے، وہ ٹھیک رہیں گے، وہ مہربان رہیں گے۔‘انہوں نے مزید کہا تھا کہ’ اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم جائیں گے اور انہیں ختم کر دیں گے، اگر ضروری ہوا تو، وہ ختم کر دیے جائیں گے، اور انہیں یہ معلوم ہے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں