پنجگور میں پانی کی عدم دستیابی، کھجور کے باغات تباہی کے دہانے پر
تحریر: حضور بخش قادر
پنجگورر دریائے رخشان کے دونوں کنارے کھجور کے درختوں کا طویل سلسلہ ہے، کسی زمانے میں ان کھجور کے باغات کو دریائے رخشان کے پانی سے سیراب کیا کرتے تھے، علاقے میں طویل خشک سالی اور زیر زمین پانی کے نیچے گر جانے کی وجہ سے دریائے رخشان کا پانی خشک ہو چکا ہے جس سے نہ صرف کھجور کے باغات تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں بلکہ کھجور کے باغات کے درمیان موجود انگور، انار اور دیگر فصلات جن میں جو، گندم، چاول اور دیگر اناج، سبزیاں بھی ناپید ہوگئے ہیں، پنجگور میں اعلیٰ قسم کے خوشبودار چاول لوگ کثرت سے کاشت کرتے تھے اب یہ ماضی کا خواب بن گئے ہیں، پنجگور ایک زرعی علاقہ ہے اور یہاں سرد اور گرم دونوں علاقوں کی فصل ہوتی ہے مگر پانی کی عدمِ دستیابی کی وجہ سے زمینداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چند سال قبل محکمہ زراعت، واٹر مینجمنٹ کی جانب سے ان نہروں ( کورجو ) کو جدید دور کے مطابق پائپ لائن کے ذریعے ان کے پانی کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے جو اچھا اقدام تھا مگر یہ سسٹم دیر تک نہ چل سکا ان منصوبوں پر لاکھوں یا کروڑوں روپے خرچ کیے گئے تھے۔ پنجگور میں آ بپاشی کا اہم ذریعہ کاریزات ہیں مگر طویل خشک سالی کی وجہ سے بہت سی کاریزات یا تو خشک ہوگئی ہیں یا ان کا پانی انتہائی کم ہوگیا ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت سے زمینداروں نے سولرز سسٹم کا سہارا لیا ہے تاہم اس سسٹم سے چند ایک زمیندار استفادہ ضرور کررہے ہیں، علاقے میں بڑی مقدار میں لگائے گئے بور اور سولرز سسٹم کی وجہ سے کاریزات اور لوگوں کے عام کنویں بھی خشک ہو رہے ہیں حکومت کو چاہیے کہ آبپاشی کے پرانے اور موثر نظام کاریزات کی بحالی اور تحفظ کیلئے اقدامات کرے اور کاریزات کی صفائی اور بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ پنجگور میں طویل خشک سالی کی وجہ سے زمینداروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پنجگور میں کاریزات کی بحالی اور صفائی کے لیے بھی اقدامات کی ضرورت ہے، پنجگور میں پانی کی عدمِ دستیابی کی وجہ سے کھجور کے درخت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، پنجگور کے بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے وہ زمیندار ی کھیتی باڑی کے ذریعے اپنا گزر بسر کرتے ہیں مگر حکومت کی جانب سے ان کو نہ جدید زمینداری کے طریقے سے آگاہی دی جاتی ہے اور نہ ہی مختلف بینکوں کی جانب سے ان کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی قرضے دیئے جاتے ہیں حالانکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام بینکوں کو پابند کیا ہے کہ زمینداروں کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی قرضے فراہم کریں مگر شاید پنجگور ملک کا واحد ضلع ہے کہ اس علاقے کے زمیندار زرعی قرضے سے بھی محروم ہیں حالانکہ یہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرعی پالیسی کا حصہ ہے، پنجگور کے زمیندار اپنی مدد آپ کے تحت زمینداری کرتے ہیں، بلڈوزر بھی عام زمیندار کے دسترس سے دور ہیں حکومت کو چاہیے کہ تمام زمینداروں کو بلڈوزر گھنٹے فراہم کریں۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ متبادل ذرائع سے ان کی بحالی کے لیے اقدامات کرے، مثلاً اشتراکی نظام کے تحت زمینداروں کو سولرز سسٹم فراہم کئے جائیں، پنجگور اور گردونواح میں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر پڑی ہے، بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ اقدامات کرے، زیر زمین پانی کو بڑھانے کے لیے ندی نالوں پر ڈیم بنائیں تاکہ زیر زمین پانی کی سطح میں اضافے ہو۔


